فیصل آباد چیمبراور ایتھوپین انویسٹمنٹ کمیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، مختلف شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری پر اتفاق

فیصل آباد ۔ 31 مئی (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری اور ایتھوپیا کے انویسٹمنٹ کمیشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ، جس کے تحت دونوں ادارے ٹیکسٹائل، زراعت، لائیو سٹاک، پولٹری، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اس مفاہمتی یادداشت پر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر سجاد ارشد اور ایتھوپیا کے انویسٹمنٹ …

فیصل آباد ۔ 31 مئی (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری اور ایتھوپیا کے انویسٹمنٹ کمیشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ، جس کے تحت دونوں ادارے ٹیکسٹائل، زراعت، لائیو سٹاک، پولٹری، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

اس مفاہمتی یادداشت پر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر سجاد ارشد اور ایتھوپیا کے انویسٹمنٹ کمیشن کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹرزیلیک ٹیمی سگن نے دستخط کئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سجاد ارشد نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا میں مختلف شعبوں کیلئے وافر مقدار میں خام مال دستیاب ہے جس کی ویلیو ایڈیشن سے بھاری منافع کمایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ فیصل آباد چیمبر اور ایتھوپیا کا انویسٹمنٹ کمیشن دونوں ملکوں کے سرمایہ کاروں کو مختلف شعبوں میں ویلیو ایڈیشن کیلئے ضروری معلومات کے علاوہ سہولتیں بھی فراہم کریں گے۔ ڈاکٹر سجاد ارشد نے خاص طور پر پولٹری کے شعبے کی ترقی کیلئے ایتھوپیا کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ایتھوپیا میں جدید بنیادوں پر پولٹری فارمنگ کی بنیاد رکھنے کیلئے ہر قسم کی تکنیکی سہولتیں مہیا کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے ٹیکسٹائل کے شعبہ میں بھی فیصل آباد کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں فیصل آباد بھر پور کردار اد ا کر رہا ہے اور ہم اس سلسلہ میں ایتھوپیا کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے میں اس کی مدد کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سجاد ارشد نے آئی ٹی کے شعبہ میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر خرم طارق کے سائبر آباد کے منصوبے کا ذکر کیا اور کہا کہ فیصل آباد چیمبر اس سلسلہ میں نوجوان گریجویٹس کیلئے مصنوعی ذہانت کے بارے میں جدید پروگرام شروع کر رہا ہے اور یہ تربیتی سہولتیں ایتھوپیا کے نوجوانوں اور آئی ٹی ہاؤسز کو بھی مہیا کی جا سکتی ہیں تاکہ یہ ملک بھی آئی ٹی کی برآمدات میں اضافہ کر سکے۔