فیفا ورلڈ کپ ،کھلاڑیوں کو گرمی سے بچانے کے لئے ہائیڈریشن بریکس کے قانون پر فٹ بال دنیا دو دھڑوں میں تقسیم

شمالی امریکہ میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026کے دوران شدید گرمی سے کھلاڑیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے متعارف کروائے گئے ہائیڈریشن بریکس (پانی پینے کے وقفے) کے قانون پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

میکسیکو سٹی۔22جون (اے پی پی):شمالی امریکہ میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026کے دوران شدید گرمی سے کھلاڑیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے متعارف کروائے گئے ہائیڈریشن بریکس (پانی پینے کے وقفے) کے قانون پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ شنہوا کے مطابق فیفا نے موسم کی صورتحال سے قطع نظر ہر میچ کے دونوں ہاف کے وسط میں 3، 3 منٹ کے لازمی ہائیڈریشن بریکس کا اعلان کیا ہے تاکہ تمام میچوں میں یکساں پالیسی برقرار رہے، تاہم فٹ بال کی کئی معروف شخصیات نے اس پر تنقید کی ہے۔ یوراگوئے کے ہیڈ کوچ مارسیلو بیئلسا اس قانون کے بڑے مخالفین میں سے ایک ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ وقفے میچ کی روانی کو متاثر کرتے ہیں اور کھیل کو 2 کے بجائے 4 حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں جس سے فٹ بال کی اصل خوبصورتی متاثر ہوتی ہے۔

نیدرلینڈز کے کپتان ورجل وین ڈائک نے بھی اس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کھلاڑیوں کا تحفظ ضروری ہے لیکن یہ بریک لازمی ہونے کے بجائے موسم کی شدت کو دیکھ کر دی جانی چاہیے، جبکہ دوسری طرف جرمنی کے ہیڈ کوچ جولین ناگلزمین نے اعتراف کیا کہ اس بریک نے انہیں میچ کے دوران حکمت عملی تبدیل کرنے میں مدد دی۔ سپورٹس سائنسدانوں اور کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر جوشوا ڈی ونسینزو کے مطابق یہ قانون کھلاڑیوں کو ڈی ہائیڈریشن، دل کے امراض اور اعصابی دباؤ جیسے شدید خطرات سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ (90 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زائد درجہ حرارت میں کھلاڑیوں کے جسم سے تیزی سے پانی کم ہوتا ہے جو ان کی کارکردگی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ بعض ماہرین کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ شدید ترین موسم میں 3 منٹ کا وقت بھی کم ہے اور اسے مزید بڑھایا جانا چاہیے، جس کے بعد فیفا کو ایک طرف کھیل کی روایت برقرار رکھنے اور دوسری طرف کھلاڑیوں کی صحت کی حفاظت کے درمیان توازن قائم کرنے کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔