قائداعظم محمد علی جناح کے فکر و عمل کی بنیاد قرآنِ مجید کی تعلیمات و حضور کی سیرتِ طیبہ پر تھی،مقررین

لاہور۔20اکتوبر (اے پی پی):قائداعظم محمد علی جناح کے فکر و عمل کی بنیاد قرآنِ مجید کی تعلیمات اور حضور کی سیرتِ طیبہ پر تھی۔ انہیں اسلامی تاریخ و تہذیب کا گہرا شعور تھا اور اسی بنیاد پر انہوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کو دو علیحدہ قومیں ثابت کیا۔ مجید نظامی مرحوم نے اپنے خونِ جگر سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی آبیاری کی اور اس کے منصوبے ایوانِ قائداعظم کو پروان …

لاہور۔20اکتوبر (اے پی پی):قائداعظم محمد علی جناح کے فکر و عمل کی بنیاد قرآنِ مجید کی تعلیمات اور حضور کی سیرتِ طیبہ پر تھی۔ انہیں اسلامی تاریخ و تہذیب کا گہرا شعور تھا اور اسی بنیاد پر انہوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کو دو علیحدہ قومیں ثابت کیا۔ مجید نظامی مرحوم نے اپنے خونِ جگر سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی آبیاری کی اور اس کے منصوبے ایوانِ قائداعظم کو پروان چڑھایا جو افکار قائداعظم کے ابلاغ کا عالمی مرکز اور کارکنان تحریک پاکستان کے خوابوں کی تعبیر ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی پروفیسر عطا الرحمن نے ایوانِ قائداعظم فورم کی گیارہویں ماہانہ نشست میں کلیدی مقرر کے طور پر ”قائداعظم بحضور سرور کائنات‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے تحت اس نشست کا انعقاد ایوانِ قائداعظم لاہورمیں ہوا۔پروفیسر عطاءالرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ قوم سازی میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ ایوانِ قائداعظم دراصل ایک نظریاتی یونیورسٹی ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے۔ انہوں نے کہا کہ حضور کے طفیل ہمیں نہ صرف اخلاقیات‘ روحانیت‘ بندگی کا شعور ملا بلکہ حضور اعلیٰ درجے کے منتظم بھی تھے۔ انہوں نے ایک ریاست قائم کی اور کامیابی سے اسے چلا کر دکھایا۔ وہ ایک اسلامی‘ فلاحی ریاست تھی۔ حضور کی مثالی ریاست خواب یا خیال کی ریاست نہیں تھی بلکہ وہ عملی طور پر ظہور پذیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی بے لوث اور بے باک قیادت میں ہم پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بانی پاکستان جب لندن پڑھنے گئے تو وہاں بھی عیدمیلاد النبی کی تقریبات میں شرکت کی۔ ان کی زندگی میں جب بھی عیدمیلادالنبی کا موقع آیا تو اُنہوں نے اسے ضرور منایا۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے سیاستدان اور روشن دماغ انسان تھے۔ ان کے سامنے حضور کی سیرت کا ہر پہلو روزِ روشن کی مانند عیاں تھا۔ وہ اپنی کمیونٹی میں حضور کے اخلاق و فضائل بھی بیان کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں حضور کے فضائل بیان کئے ہیں اور قائداعظم محمد علی جناح نے حضور کی ذات کو اپنا محور و مرکز مان لیا تھا اور وہ اس سے رہنمائی لیتے تھے۔ قائداعظم اپنا لائحہ عمل اور جذبہ محرکہ قرآنِ مجید اور حضور کے ارشادات کی روشنی میں طے کرتے۔ قائداعظم نے مسلمانانِ برصغیر کو قومیت کی اس لڑی میں پرودیا جس کا حکم حضور نے خطبہ حجة الوداع کے دوران دیا تھا۔میاں عمران مسعود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نسل نو میں پاکستانیت نقش کرنے اور قائم ودائم رکھنے کےلئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور مرحوم مجید نظامی کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ آج ہمیں نوجوان نسل کو ایک سمت دینے کی اشد ضرورت ہے اور وہ سمت سوائے اسلام کے اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی انہی اصولوں پرعمل کیا جو اسلام نے متعین کررکھے تھے۔بیگم خالدہ جمیل نے کہا کہ ہم اس وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب حضور کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں گے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام تر توجہ نئی نسلوں کی تعلیم و تربیت پرہے۔ نئی نسل پرجوش اور پرعزم ہے۔ہم اس کے دل و دماغ میں حضور کی محبت اور عظمت نقش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کیلئے جشن عید میلاد النبی کی مناسبت سے مختلف النوع پروگرام ترتیب دیئے ہیں۔ایوانِ قائداعظم اس نظریاتی تعلیم و تربیت کا ایک گہوارہ ثابت ہوگا۔