اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائدِ اعظم برصغیر کے مسلمانوں کے محسنِ اعظم اور ایک عظیم مدبر رہنما تھے جنہوں نے غیر معمولی بصیرت، آئینی جدوجہد اور اصولی سیاست کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اور خودمختار وطن کے …
قائدِ اعظم محمد علی جناح نے غیر معمولی بصیرت، آئینی جدوجہد اور اصولی سیاست سے مسلمانوں کے لیے آزاد اور خودمختار وطن کا خواب حقیقت بنایا، حریت رہنما غلام محمد صفی

مزید خبریں
اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائدِ اعظم برصغیر کے مسلمانوں کے محسنِ اعظم اور ایک عظیم مدبر رہنما تھے جنہوں نے غیر معمولی بصیرت، آئینی جدوجہد اور اصولی سیاست کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اور خودمختار وطن کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔
بدھ کو اپنے بیان میں غلام محمد صفی نے کہا کہ قائدِ اعظم نے شبانہ روز انتھک محنت، سیاسی تدبر اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی، عدم تحفظ اور سیاسی بے وزنی سے نکال کر ایک باوقار اور خوددار قوم کی حیثیت دلائی، ان کی قیادت محض جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ قانون، آئین اور سیاسی حکمت پر مبنی تھی۔کنوینر حریت کانفرنس نے کہا کہ قائدِ اعظم کی سیاست کی بنیاد اصول، انصاف اور آئینی بالادستی پر استوار تھی، وہ جمہوریت، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے پختہ حامی تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام کسی عارضی یا وقتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل، منظم اور آئینی جدوجہد کا حاصل تھا جس کی قیادت قائدِ اعظم نے ثابت قدمی اور دانش مندی کے ساتھ کی۔غلام محمد صفی نے اس بات پر زور دیا کہ قائدِ اعظم کا وژن صرف پاکستان کے قیام تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ برصغیر کے تمام مظلوم اور محکوم مسلمانوں کے حقوق کے لیے فکر مند تھے، اسی تناظر میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو برصغیر کی تقسیم کا ایک نامکمل اور حل طلب ایجنڈا قرار دیا، قائدِ اعظم کا واضح اور دوٹوک مؤقف تھا کہ ریاستِ جموں و کشمیر جغرافیائی، تہذیبی، معاشی اور عوامی امنگوں کے اعتبار سے پاکستان کے ساتھ فطری وابستگی رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائدِ اعظم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے پُرزور حامی تھے اور ان کا اصولی مؤقف یہ تھا کہ ریاستِ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کسی جبر، طاقت یا قبضے کے ذریعے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے اور مرضی سے ہونا چاہیے، یہی اصول بعد ازاں عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا، تاہم بدقسمتی سے آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔کنوینر حریت کانفرنس نے کہا کہ قائدِ اعظم کی کشمیر پالیسی انصاف، قانون اور اخلاقی اصولوں پر مبنی تھی جو آج بھی عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے مکمل ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مسئلۂ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوتا اس وقت تک برصغیر میں پائیدار اور دیرپا امن ممکن نہیں۔غلام محمد صفی نے کہا کہ آج کشمیری عوام جس جبر، فوجی تسلط اور سیاسی ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں ایسے حالات میں قائدِ اعظم کے افکار، وژن اور اصول کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام قائدِ اعظم کے اس تاریخی مؤقف کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کے بغیر خطے میں حقیقی امن کا تصور ادھورا ہے۔آخر میں کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کا یومِ پیدائش ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ان کے افکار، اصولوں اور جدوجہد کی روشنی میں مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور عوامی خواہشات کے مطابق حل کے لیے اپنی سیاسی اور اخلاقی جدوجہد پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔








