لاہور۔10ستمبر (اے پی پی ) برصغیر پاک وہند کے عظیم رہنما اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 72 ویں برسی آج جمعہ کو پاکستان بھر میں قومی و ملی اتحاد و یگانگت کے جذبے کے ساتھ عقیدت و احترام سے منائی جائے گی ' اس موقع پر سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جائیگا' بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے دن …
قائد اعظم محمد علی جناح کی 72 ویںبرسی عقیدت و احترام سے آج منائی جائے گی

مزید خبریں
لاہور۔10ستمبر (اے پی پی ) برصغیر پاک وہند کے عظیم رہنما اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 72 ویں برسی آج جمعہ کو پاکستان بھر میں قومی و ملی اتحاد و یگانگت کے جذبے کے ساتھ عقیدت و احترام سے منائی جائے گی ‘ اس موقع پر سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جائیگا’ بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے دن کا آغاز کراچی میں مزار قائد پر گارڈ کی تبدیلی سے ہوگا’ اس موقع پر پاک فوج کا ایک چاق و چوبند دستہ سلامی پیش کریگا’ قائداعظم کی روح کو ایصال ثواب کیلئے تعلیمی اداروں’ مدارس’ مساجد اور دیگر مقامات پر خصوصی تقریبات کا بھی اہتمام کیا جائے گا’ ملک کی بقاء و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی بھی دعائیں مانگی جائیں گی۔کراچی کے علاقہ وزیر منشن میں 1876ء میں تاجر جناح بھائی پونجا کے گھر پیدا ہونے والے محمد علی جناح آنے والے برسوں میں مسلمانان ہند کے امیر کارواں بن گئے اور عرصہ دراز سے استحصال میں پھنسی قوم کو اپنی سیاسی بصیرت کی وجہ سے الگ مملکت کی شناخت دی’ہندو اورانگریز ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان کسی بھی طرح ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں’ انہوں نے قدم قدم پر سازشوں کے جال بچھائے تھے’ یہ بانی پاکستان ہی کی ذات تھی جس نے ان کی ریشہ دوانیوں کو بھانپتے ہوئے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا’ بانی پاکستان عزم ، استقلال اور دانش کا پیکر تھے وہ مسلمانوں کے عالمی راہنما، عظیم قانون دان اور تاریخ ساز شخصیت تھے’وہ انگریز اور کانگریسی لیڈروں کی شاطرانہ چالوں سے بخوبی واقف تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ دونوں عناصر مسلمانان برصغیر کو ہمیشہ کیلئے غلامی کی زنجیر میں جکڑے رکھنا چاہتے ہیں’ اس لیے انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو دوقومی نظریہ سے روشناس کرایا اور 23مارچ1940ء کو قراردادپاکستان منظور کروا کر برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے حصول کیلئے بھرپور جدوجہد شروع کردی’برصغیر میں ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کا وہ دیرینہ خواب جو مسلمانان ہند دو صدیوں سے دیکھتے چلے آ رہے تھے 14 اگست کو شرمندہ تعبیر ہوا’ اس خواب کی تعبیر ایک فرد واحد کی چشم کرشمہ ساز کا نتیجہ تھی اور وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے’یہ حقیقت ہے کہ تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر جب ہندوستان کے مسلمان اپنی بقاء اور سلامتی کی جانب سے بڑی حد تک مایوس ہوچکے تھے’قائد اعظم نے تدبر، غیر متزلزل عزم سیاسی بصیرت اور بے پناہ قائدانہ صفات سے کام لے کر مسلمانوں کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد کر دیا تھا’ قائداعظم نے آل انڈیا کانگریس کی بھرپور مخالفت کے باوجود برصغیر میں پاکستان کے نام سے نئی ریاست کی بنیاد رکھی’ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگریس کی قیادت اور انگریزوں سے مشترکہ خطاب میں 16 دسمبر 1946 کو دو قومی نظریہ واضح کر دیا’ قیام پاکستان کا فیصلہ ہو چکا تو قائد نے 11 اگست 1947 کو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں نئی ریاست کے رہنما اصول بھی واضح کر دئیے ‘سال 1948ء بابائے قوم کی زندگی کاآخری سال تھا، اگرچہ آپ نے اپنی سیاسی زندگی نہایت تن دہی سے گذاری مگر قیام پاکستان کے بعد نومولود مملکت کے مسائل ایسے نہ تھے جنہیں قائد نظر انداز کر دیتے’ انھوں نے قوم کے سنہرے مستقبل کو اپنی بیماری پر ترجیح دی’پے در پے مصروفیات کی وجہ سے بابائے قوم کی صحت جواب دے گئی اور11 ستمبر کو پاکستانی قوم کے ناخدا، فراست و ذہانت کے پیکر محمد علی جناح ہمیشہ کے لیے اللہ کی رحمت میں پہنچ گئے’پاکستان کے استحکام کیلئے قائد اعظم کے فرمودات آج بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں’قیام پاکستان کے صرف ایک سال ایک ماہ بعد بانی پاکستان کی وفات حسرت آیات ایک ایسا قومی المیہ ہے جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں’ کیونکہ قیام پاکستان کے بعد قوم کو درپیش سنگین مسائل کے حل اور اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے قائداعظم کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی اور مہاجرین کے سیلاب’ بھارت کی اثاثوں کی تقسیم میں ریشہ دوانیوں’ بائونڈری کمیشن کی غیرمنصفانہ کارروائیوںجن کے نتیجے میں کشمیر کے تنازعہ نے جنم لیا اور دیگر ناگزیر حالات کی وجہ سے ملکی آئین کی تدوین اور ملک کی مختلف اکائیوں کے مابین بنیادی معاملات پر اتفاق رائے کے حصول میں جو تاخیر ہوئی’ یہ تمام معاملات قائد کی وفات کی وجہ سے مزید الجھ گئے’آج ہم قائد کے پاکستان کے دفاع کو یقینی بنا کر ہی قائد کی روح کو تسکین پہنچا سکتے ہیں’ اس کیلئے ہمیں دہشت گردی اور کرپشن سے پاک پاکستان کی بھی ضمانت فراہم کرنا ہو گی’ عوام کو خوشحال بنانے کیلئے وطن عزیز کو اقتصادی طور پر مستحکم کر کے ہی ہم قائداعظم کے آدرشوں اور امنگوں کے مطابق قیام پاکستان کے مقاصد کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔








