قانونی طور پر مضبوط مسئلہِ کشمیر نوجوان نسل سے بھرپور کردار ادا کرنے کا متقاضی ہے، مقررین یوتھ فورم فار کشمیر

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):مسئلہِ کشمیر قانونی طور پر مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک ایسی جدوجہد ہے جو کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لئے آواز بلند کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مبنی ہے تاہم جغرافیائی سیاسی طاقتوں میں عدم توازن نے اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ ڈالی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کے نوجوانوں پر …

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):مسئلہِ کشمیر قانونی طور پر مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک ایسی جدوجہد ہے جو کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لئے آواز بلند کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مبنی ہے تاہم جغرافیائی سیاسی طاقتوں میں عدم توازن نے اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ ڈالی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کے نوجوانوں پر پاکستان کے نظریاتی اصولوں کی روشنی و رہنمائی میں اس مقدمہ کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

یہ بات مقررین نے یوتھ فورم فار کشمیر (وائے ایف کے)کے تعاون سےانسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (آئی پی ایس) میں منعقدہ سیمینار کے دوران کہی۔ تقریب کا عنوان ’’جنوری 5: اسباق، مکالمہ اور آگے کا راستہ‘‘ تھا جس میں غیر حل شدہ جموں و کشمیر کے مسئلے اور اس کے دیرپا قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر بات کی گئی۔ اس تقریب نے سفارتکاروں، محققین اور یونیورسٹی کے طلبہ کو یکجا کرنے کا ایک ایسا نادر موقع فراہم کیا جس سے نسل در نسل مکالمے کو فروغ ملا۔ تقریب کے مقررین میں کشمیر کے سابق صدر سفیر (ر) سردار مسعود خان ، چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن ، سیکرٹری آئی پی ایس ورکنگ گروپ برائے کشمیر فرزانہ یعقوب، ایگزیکٹو ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک سٹڈیز ڈاکٹر ولید رسول، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے عمیر پرویز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر وائے ایف کے زمان باجوہ شامل تھے۔

طلبہ سے بات چیت کرتے ہوئے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا کہ جنریشن زی سوشل میڈیا کی وسیع رسائی کی وجہ سے بے مثال معلومات تک رسائی اور اظہار کے پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک منفرد طریقے سے بااختیار ہے، اس کے نتیجے میں اس نسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مختلف سطحوں پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو خود کو قوم کا معمار سمجھنا چاہئے اور اسی تناظر میں اپنے اہداف کو پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کے مطابق رکھنا چاہئے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی نسلوں نے کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کے لئے قربانیاں دی ہیں اور اب یہ ذمہ داری پاکستان کے نوجوانوں پر منتقل ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی اور کشمیری بھائی چارے کے مشترکہ نظریے کے ذریعے بندھے ہوئے ہیں، مئی 2025 کے واقعات نے اس اجتماعی عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ڈاکٹر ولید رسول نے بتایا کہ 5 جنوری 1949 کشمیری تاریخ کا ایک اہم موقع تھا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے واضح طور پر کشمیری عوام کو آزاد اور غیر جانبدار ریفرنڈم کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بیرونی طور پر نافذ نہیں کی گئیں بلکہ یہ اس وقت سامنے آئیں جب بھارت نے خود اقوام متحدہ سے رجوع کیا ،جس سے یہ تسلیم ہوتا ہے کہ کشمیر کی حتمی حیثیت کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا۔

سات دہائیوں کے بعد بھی اقوام متحدہ کے تحت خود ارادیت کا فریم ورک نافذ نہیں ہوا جس کی بڑی وجہ عالمی طاقتوں کے مفادات اور بین الاقوامی نظام میں طاقت کے عدم توازن ہیں تاہم ان قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکامی مسئلے کی قانونی حیثیت کو کم نہیں کرتی بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کے انتخابی اطلاق کو بے نقاب کرتی ہے۔ عمیر پرویز نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خود ارادیت سے متعلق ہے جو اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کے ذریعے مستحکم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پرامن خود ارادیت کی تحریکوں ، جیسے آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ سے حوصلہ لیا جا سکتا ہے لیکن بھارت کے نوآبادیاتی کنٹرول کی حقیقت کے پیش نظر مزاحمت کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں ساکھ قائم رکھنے کا تصور اہمیت اختیار کر لیتا ہے کیونکہ کشمیری علاقوں میں مسلسل حقوق کی خلاف ورزیاں بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اس طرح مسئلہِ کشمیر کو قانونی طور پر مضبوط کرتی ہیں۔

اپنے اختتامی کلمات میں خالد رحمٰن نے بین الاقوامی نظام کے بدلتے ہوئے ڈائنامکس کی نشاندہی کی اور کہا کہ مخالفین جب اپنے ہدف کردہ عوام کو قائل کرنے میں ناکام رہتے ہیں وہ اکثر عوام پر کنٹرول قائم کرنے کے لئے انتشار اور افراتفری پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے صبر اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے طویل مدتی، قابلِ عمل بصیرت ضروری ہے۔ انہوں نے مقصد کی وضاحت اور اس کے حصول کے لئے مختلف طریقوں کے استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا۔