اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے سلسلے میں پاکستان نے جو نمایاں بہتری دکھائی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اداروں اور معاشرے کی سطح پر ان رکاوٹوں اور بندشوں کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے جن پر قابو پا کر ہم اس امر کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر شہری ایسی زندگی بسر …
قانون سازی اور عملدرآمد کے درمیان خلاء کو دور کرنا انسانی حقوق کے تحفظ اور پاسداری کے لئے ناگزیر ہے، شیریں مزاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے سلسلے میں پاکستان نے جو نمایاں بہتری دکھائی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اداروں اور معاشرے کی سطح پر ان رکاوٹوں اور بندشوں کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے جن پر قابو پا کر ہم اس امر کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر شہری ایسی زندگی بسر کر سکے جس میں اس کے انسانی وقار اور حقوق کا احترام کیا جائے۔ وہ انسانی حقوق کے عالمی دن اور پاکستان میں صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ سرگرمیوں کے اختتام کے موقع پر منعقد کی گئی ایک تقریب سے خطاب کر رہی تھیں جس کا اہتمام انسانی حقوق کی وزارت اور یو این ویمن پاکستان نے مشترکہ طور پر شہید بے نظیر بھٹو کرائسس سنٹر، اسلام آباد میں جمعرات کو کیا۔ اس موقع پر تشدد کا مقابلہ کرنے والی کئی خواتین نے شرکاء کو اپنی روداد سنائی اور اپنی تجاویز بھی پیش کیں کہ مختلف ادارے اور ذمہ داران اس سلسلے میں اپنی سرگرمیوں کو کس طرح زیادہ موثر بنا سکتے ہیں۔ شعبہ قانون، پولیس، سول سوسائٹی، حکومتی اداروں، اقوام متحدہ کے اداروں اور سفارتی برادری کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے اس تقریب میں شرکت کی جس کا انعقاد براہ راست آن لائن بھی کیا گیا۔ تیزاب گردی کا شکار ہونے والی ایک خاتون کی کہانی پر مبنی ایک وڈیو بھی اس موقع پر دکھائی گئی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح اس خاتون نے مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے جدوجہد کی۔یہ وڈیو اس مقصد کے تحت تیار کی گئی کہ نہ صرف متاثرہ افراد کی حالت زار پر روشنی ڈالی جائے بلکہ ان کی ہمت، حوصلے اور پختہ عزم کو بھی اجاگر کیا جائے۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق قوانین میں موجود خلاء کو دور کرنے، ان پر عملدرآمد کو مضبوط بنانے، اور ان کے بارے میں آگاہی میں اضافہ پر زور دیتے ہوئے وزارت انسانی حقوق نے آئینِ پاکستان کی روشنی میں انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کا تہیہ کر رکھا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر یو این ویمن پاکستان کی مدد سے شہید بے نظیر بھٹو کرائسس سنٹر میں قائم کی گئی کمپیوٹر لیب کا افتتاح بھی کیا جس کی بدولت اس مرکز کی رہائشی خواتین کمپیوٹر کی مختلف مہارتیں حاصل کر سکیں گی جو ان کی بحالی ، غربت سے نجات اور آزاد شہری بننے کی کوششوں میں انہیں مدد دیں گی۔ صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ سرگرمیاں، ایک عالمی مہم ہے جن کا آغاز ہر سال 25 نومبر کو خواتین پر تشدد کے خاتمہ کے عالمی دن سے ہوتا ہے اور 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن تک جاری رہتی ہیں۔ اس دوران دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے مسلسل رجحان اور اس کی روک تھام کے سلسلے میں بھرپور کارروائیوں کی ضرورت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس مہم کو دنیا بھر کے افراد اور ادارے ایک ایسی تنظیمی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کے ذریعے لوگوں سے خواتین اور لڑکیوں پر ہر طرح کے تشدد کے خاتمہ اور روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ کورونا وباء کے باعث موجودہ حالات کے پیش نظر، رواں سال، صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ سرگرمیوں کا انعقاد "فنڈ کریں، جوابی اقدام کریں، روک تھام کریں، جمع کریں” کے مرکزی پیغام کے تحت کیا گیا جس کا مقصد فنڈز کی کمی کو دور کرنے، کرونا وائرس کے بحران کے دوران تشدد سے متاثرہ افراد کے لئے لازمی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے، روک تھام ، اور ایسے اعدادوشمار جمع کرنے پر زور دینا تھا جن کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کے لئے جان بچانے والی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔ پاکستان میں کینیڈا کی ہائی کمشنر وینڈی گلمور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب کی بدولت پاکستان میں خواتین پر تشدد سے متاثر ہونے والوں اور اس کے خاتمہ کے لئے سرگرم مختلف شعبہ ہائے زندگی کے متعلقہ فریقوں کو یکجا کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف آپس میں خیالات کا تبادلہ کیا بلکہ اس بات کو یقینی بنانے میں بھی مدد ملے گی کہ متعلقہ نظام اور خدمات کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں متاثرہ افراد سے معلومات لی جائیں اور ان کی روشنی میں ان کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ پاکستان میں آسٹریلیا کی ڈپٹی ہائی کمشنر جوان فریڈرکسن نے کہا کہ صنفی تشدد پائیدار امن میں ایک رکاوٹ ہے، معیشت پر ایک بوجھ ہے اور انسانی حقوق کے منافی ہے۔ یہ ایک عالمی چیلنج ہے جو کسی بھی حال میں ایک طرف تو سنگین ہے اور دوسری جانب کرونا وائرس کی وباء جیسے حالات میں جب مدد تک رسائی محدود ہوتی ہے، خاص طور پر تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج صنفی تشدد کے خاتمہ کی 16 روزہ سرگرمیاں اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہیں لیکن آسٹریلیا کی جانب سے پاکستان میں اس سے متعلق ایڈووکیسی سرگرمیوں اور معاونت کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ کسی بھی صورت میں تشدد سے پاک زندگی گزارنا ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یو این وومن پاکستان کی کنٹری ریپریزنٹیٹو شرمیلا رسول نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں بالخصوص وباء کے دوران صنفی تشدد کے واقعات میں اضافے کے مسئلے پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو لاتعداد مسائل درپیش ہیں جن میں تشدد سب سے سنگین ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنفی تشدد کا مسئلہ محض پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور یہ وبائی نوعیت کا حامل ہے۔ شرمیلا رسول نے بتایا کہ اوسطاً ہر تیسری خاتون کو اپنی زندگی میں تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اس سے نمٹنے کے لئے کلی سوچ پر مبنی لائحہ عمل اپنانا ہو گا اور یہ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ خیال رہے کہ شرمیلا رسول نے ملتان کے ‘وائلنس اگینسٹ ویمن سنٹر’ سے آن لائن طریقے سے تقریب میں شرکت کی جہاں یو این ویمن کی جانب سے اسی طرح کی ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اور ان دونوں تقاریب کو آپس میں جوڑنے سے نہ صرف شرکاء کو پناہ گاہوں اور خصوصی مراکز میں رہنے والی متاثرہ خواتین کی مدد کے بہترین طریقوں پر باہمی تبادلہ خیالات کا موقع ملا بلکہ امید ہے کہ ان کی بحالی اور انہیں دوبارہ معاشرے کا حصہ بنانے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں بھی مدد ملے گی۔ شرمیلا رسول نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ صنفی تشدد کے متاثرین کو انصاف تک فوری رسائی میں مدد دینے اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے مختلف شعبوں کے درمیان اور وفاق اور صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن کے مضبوط نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ رواں سال کی مہم کے دوران یو این ویمن نے ایک نیا لائحہ عمل اپنایا اور مقننہ، عدلیہ و پولیس کے ارکان، مذہبی رہنماؤں، نجی شعبے، سول سوسائٹی اور شعبہ تدریس سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف نظام عدل کی اصلاح اور استحکام کے لئے اشتراک عمل پر مبنی طریقے وضع کرنے پر کام کیا بلکہ ان سے وعدے بھی لئے کہ وہ تشدد کے مسئلے کے ازالے کے لئے موثر اور پائیدار اقدامات کو آگے بڑھانے کی کوششیں کریں گے۔ شرمیلا رسول نے کہا کہ یو این ویمن تمام متعلقہ فریقوں کی طرف سے کئے گئے وعدوں پر ہونے والی پیشرفت کی مسلسل نگرانی کرے گا اور نہ صرف متاثرہ افراد کو انصاف تک رسائی دینے کے طریقوں اور خدمات کو مستحکم بنانے میں مدد دے گا بلکہ قوانین کے نفاذ اور عملدرآمد پر آگاہی اور ایڈووکیسی سرگرمیوں کے ذریعے اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش بھی کرے گا کہ متاثرہ افراد کی بحالی اور انہیں دوبارہ معاشرے کا حصہ بنانےکے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ وہ ایک باوقار اور باعزت زندگی گزار سکیں۔








