اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین سے متعلق ایک اہم اصول کو مزید مضبوط کرتے ہوئے عبدالجبار کی جیل پٹیشن مسترد کر دی اور لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ برقرار رکھا جس کے تحت سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ جب محرک ثابت نہ ہو اور واقعہ …
قتل کیس میں محرک ثابت نہ ہونے پر سزائے موت برقرار نہیں رہ سکتی، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین سے متعلق ایک اہم اصول کو مزید مضبوط کرتے ہوئے عبدالجبار کی جیل پٹیشن مسترد کر دی اور لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ برقرار رکھا جس کے تحت سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ جب محرک ثابت نہ ہو اور واقعہ کی بنیاد عینی و طبی شہادت پر ہو تو سزائے موت کی بجائے عمر قید دی جانا قانونی تقاضا ہے۔فیصلے کے مطابق جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جیل پٹیشن نمبر 6 آف 2018 کی سماعت کی جو لاہور ہائیکورٹ کے 30 نومبر 2017 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے 11 دسمبر 2025 کو مختصر حکم کے ذریعے پٹیشن خارج کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کیا جبکہ تفصیلی وجوہات بعد ازاں جاری کی گئیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عبدالجبار کو ٹرائل کورٹ نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(b) کے تحت قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی تاہم لاہور ہائیکورٹ نے اپیل پر سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے مقتول کے ورثاء کو دو لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے اور عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قیدِ سادہ کی سزا برقرار رکھی تھی جبکہ ملزم کو دفعہ 382-B ضابطہ فوجداری کے تحت رعایت بھی دی گئی تھی۔
استغاثہ کے مطابق واقعہ 31 مئی 2009 کو ضلع قصور میں پیش آیا جہاں دن دیہاڑے فائرنگ کے نتیجے میں مصطفیٰ نامی شخص جاں بحق جبکہ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ ایف آئی آر میں عبدالجبار پر مقتول کو جان لیوا گولی مارنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ شریک ملزمان نے دیگر افراد کو فائرنگ سے زخمی کیا۔دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ محرک اور اسلحہ کی برآمدگی ثابت کرنے میں ناکام رہااس لئے ملزم کو بری کیا جانا چاہئے تھا یا کم از کم شریک ملزمان کے برابر سزا دی جانی چاہئے تھی۔
اس کے برعکس سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وقوعہ دن کی روشنی میں پیش آیا، فریقین ایک دوسرے کو جانتے تھے، شناخت کا کوئی مسئلہ نہیں اور ملزم کا کردار واضح طور پر ثابت ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ محرک اور اسلحہ کی برآمدگی ثابت نہیں ہو سکی تاہم عینی شہادت مضبوط اور قابلِ اعتماد ہے اور طبی شواہد اس کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ گواہوں کے بیانات میں کوئی ایسا تضاد موجود نہیں جو استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بنائے۔
عدالت نے مزید کہا کہ قانون کے تحت محرک ثابت نہ ہونے کی صورت میں سزائے موت نہیں بلکہ عمر قید دی جاتی ہے۔عدالت نے سپریم کورٹ کے متعدد سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے درست قانونی اصول اپناتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا اور اس میں کسی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ یوں سپریم کورٹ نے جیل پٹیشن خارج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔








