قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبوں کی مضبوطی کے لیے بیرونی معاونت،ملکی وسائل اور مالیاتی گنجائش کو بھی بروئے کار لانا ضروری ہے، سینیٹر محمداورنگزیب

وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبوں کو مضبوط بنانے کے لیے بیرونی معاونت کے ساتھ ملکی وسائل اور مالیاتی گنجائش کو بھی بروئے کار لانا ضروری ہے

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبوں کو مضبوط بنانے کے لیے بیرونی معاونت کے ساتھ ملکی وسائل اور مالیاتی گنجائش کو بھی بروئے کار لانا ضروری ہے۔انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں متعدد اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت کے موقع پرگفتگوکرتے ہوئے کہی ۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کو درپیش موسمیاتی خطرات، قدرتی آفات سے نمٹنے کی ترجیحات، ڈیجیٹل تبدیلی و ٹوکنائزیشن کے مواقع اور موسمیاتی وعدوں کو عملی اور قابلِ سرمایہ کاری اقدامات میں تبدیل کرنے کی اہمیت پرروشنی ڈالی اوراس حوالے سے پاکستان کے موقف کواجاگرکیا۔عالمی اقتصادی فورم کے کے فنانسنگ پلینٹ اینڈ پراسپیریٹی اجلاس میں وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات بالخصوص سیلابوں کے باعث بنیادی ڈھانچے اور عوام کو درپیش شدید خطرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبوں کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں سے آگاہ کیا اور اس امر پر زور دیا کہ بیرونی معاونت کے ساتھ ملکی وسائل اور مالیاتی گنجائش کو بھی بروئے کار لانا ضروری ہے۔وزیرخزانہ نے امداد، موسمیاتی موافقت اور تعمیرِ نو کے لیے عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس کے ذریعے مالی وسائل متحرک کرنے کا حوالہ دیا تاہم انہوں نے غفلت سے گریز پر زور دیتے ہوئے گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ سمیت بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے طریقہ کار کو آسان بنائیں اور مالی معاونت تک رسائی کو تیز کریں۔ ملاقاتوں میں معاشی مواقع کو وسعت دینے اور مالیاتی شمولیت کو مضبوط بنانے میں ڈیجیٹل جدت کے کردار پر بھی توجہ مرکوز رہی۔ اقوام متحدہ ڈیجیٹل تعاون ڈے 2026 بلاک چین اور ٹوکنائزڈ مستقبل: نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے لیے خودمختار انتخاب اور حفاظتی اقدامات کے افتتاحی خطاب میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان میں ریگولیٹڈ ورچوئل اثاثہ جات کے فریم ورک کی جانب ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا۔انہوں نے زور دیا کہ ٹوکنائزیشن کو حقیقی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے جن میں کم لاگت ترسیلاتِ زر، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے مالی معاونت، خودمختار قرض اور وسیع تر مالیاتی رسائی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے میں جدت کو مضبوط ریاستی حفاظتی اقدامات، جامع ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے فروغ دیا جانا چاہیے جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی معیارات کی تشکیل میں مکمل طور پر شامل کیا جانا ضروری ہے۔موسمیاتی اقدامات اور ترقیاتی فنانسنگ پر وسیع تر توجہ کے تسلسل میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے کوپ 31 ایکشن ایجنڈے کے اجرا میں بھی شرکت کی جہاں انہوں نے ایجنڈے کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی قومی موسمیاتی ترجیحات اور قومی سطح پر متعین کردہ شراکت این ڈی سی تھری سے بھرپور ہم آہنگی رکھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو درپیش شدید موسمیاتی خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے صاف توانائی اور بجلی کے استعمال میں توسیع، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، توانائی کے موثر استعمال پر مبنی عمارتوں، موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ شہروں، موسمیاتی تعلیم و عوامی آگاہی، غذائی تحفظ اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زراعت کو مشترکہ ترجیحات قرار دیا۔مجوزہ کلائمیٹ امپلیمنٹیشن برج کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اسے این ڈی سی کے وعدوں کو قابلِ سرمایہ کاری اور قابلِ مالی معاونت منصوبوں میں تبدیل کرنے کا موثر ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ بنیادی چیلنج اب منصوبوں کی تشکیل نہیں بلکہ ان پر موثر عملدرآمد ہے۔ انہوں نے ایکشن ایجنڈے میں واضح عملی اقدامات اور کارکردگی کے کلیدی اشاریوں کو سراہتے ہوئے اسے عملی، نتائج پر مبنی اور قابلِ پیمائش اثرات پر مرکوز قرار دیا