ایران میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈائون تیز، لاکھوں ملک بدر

میزبان ممالک میں بغیر دستاویزات مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جہاں بڑھتی ہوئی سکیورٹی اور معاشی مشکلات کے پیشِ نظر ان کی موجودگی کو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):میزبان ممالک میں بغیر دستاویزات مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جہاں بڑھتی ہوئی سکیورٹی اور معاشی مشکلات کے پیشِ نظر ان کی موجودگی کو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال ایران سے اب تک 4 لاکھ 39 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بے دخل کیے جانے والوں میں 86 فیصد افراد مکمل طور پر غیر رجسٹرڈ اور قانونی سفری یا رہائشی دستاویزات سے محروم تھے۔رپورٹ کے مطابق روزگار کی تلاش میں غیر قانونی اور دشوار گزار راستوں کے ذریعے سرحد پار کرنے کی کوشش کے دوران سینکڑوں افغان نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ دوسری جانب اتنی بڑی تعداد میں غیر قانونی شہریوں کی اچانک واپسی نے افغانستان کے اندر رہائش، روزگار اور صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات پر شدید دبائو ڈال دیا ہے۔معاشی اور دفاعی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں اور بین الاقوامی اصولوں کی عدم پاسداری نے افغانستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ ایران کی جانب سے تیز ملک بدری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے کے ممالک اب غیر قانونی نقل و حرکت اور ممکنہ سکیورٹی خدشات کو مزید نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔