قزاخ صدر نور سلطان نذر بایوف، ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر حسن روحانی اوراو آئی سی کے سیکرڑی جنرل ڈاکٹر یوسف کا او آئی سی سربراہ اجلاس سے خطاب

قزاخ صدر نور سلطان نذر بایوف، ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر حسن روحانی اوراو آئی سی کے سیکرڑی جنرل ڈاکٹر یوسف کا او آئی سی سربراہ اجلاس سے خطاب آستانہ ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی)کے سربراہان نے مسلم دنیا کی سائنس و ٹیکنالوجی میں شاندار ترقی کوبحال کرنے اور اسلاموفوبیا کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنیکا مطالبہ کیا …

قزاخ صدر نور سلطان نذر بایوف، ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر حسن روحانی اوراو آئی سی کے سیکرڑی جنرل ڈاکٹر یوسف کا او آئی سی سربراہ اجلاس سے خطاب

آستانہ ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی)کے سربراہان نے مسلم دنیا کی سائنس و ٹیکنالوجی میں شاندار ترقی کوبحال کرنے اور اسلاموفوبیا کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنیکا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام رکن ممالک نوجوانوں کو شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے تحفظ دینے کیلئے تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کو اولین ترجیح دیں۔اتوار کو آستانہ میں سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق دو روزہ اسلامی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے افتتاحی سیشن کی صدارت قزاخستان کے صدر نور سلطان نذر بایوف نے کی۔سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قزاخستان،پاکستان،ترکی،اور ایران سمیت تمام اسلامی ملکوں کے سربراہان نے تمام رکن ملکوں سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام اسلامی ممالک نوجوان نسل کو شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے تحفظ دینے کیلئے تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کو اپنے ترجیحات میں شامل کریں۔انہوں نے تمام رکن ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں مسلم دنیا کی شاندار ترقی اور کھویا ہوا مقام بحال کرنے اور اسلامی فوبیا کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں۔سربراہ اجلاس میں 56 او آئی سی ملکوں کے سربراہان اور وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو سمیت بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں۔قزاخ صدر نے اسلامی فوبیاکے چیلنجوں پر قابو پانے اور غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان ڈائیلاگ کی کی تجویز پیش کی۔انہوں نے کہا قزاخستان نے خطے میں امن کی خاطر اپنا نیو کلیئر پروگرام ختم کیا اور توقع ظاہر کی دورے ممالک بھی ایسا ہی کرینگے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ علم اور تحقیق اسلامی تہذیب کی میراث تھی لیکن علم سے کنارہ کشی اختیار کر کے انہوں نے اپنی شان و شوکت کھو دی اور ترقی سے محروم ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت مسلم دنیا میں تعلیمی اخراجاتی کیلئے جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد مختص کیا جاتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں جی ڈی پی کا 5.2فیصد مختص کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے نوجوان تعلیمی مقاصد کے حصول کیلئے یورپی ممالک جاتے ہیں۔

مزید خبریں

Leave a Reply