ایران کے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا ہے کہ قطبی طاقتوں کے روایتی نظام کے بعد ابھرنے والی دنیا ہمیں خود بخودامن فراہم نہیں کرتی بلکہ اس کے ساتھ زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف سلامتی کے تصور سے آگے بڑھ کر مشترکہ سلامتی کی طرف سفر کیا جائے اور مکالمے، تعاون اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد …
قطبی طاقتوں کے روایتی نظام کے بعد ابھرنے والی دنیا ہمیں خود بخودامن فراہم نہیں کرتی، ضرورت ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف سلامتی کے تصور سے آگے بڑھ کر مشترکہ سلامتی کی طرف سفر کیا جائے، ڈاکٹر جواد ظریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):ایران کے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا ہے کہ قطبی طاقتوں کے روایتی نظام کے بعد ابھرنے والی دنیا ہمیں خود بخودامن فراہم نہیں کرتی بلکہ اس کے ساتھ زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف سلامتی کے تصور سے آگے بڑھ کر مشترکہ سلامتی کی طرف سفر کیا جائے اور مکالمے، تعاون اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد پر خطے کا مستقبل تشکیل دیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں منعقدہ گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ نشست آئی ایس ایس آئی کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (سی اے ایم ای اے) کے زیر اہتمام ممتاز لیکچر سیریز کے تحت منعقد ہوئی۔ ڈاکٹر جواد ظریف ایران کے ممتاز سفارت کار، سکالر اور ماہر تعلیم ہیں اور علاقائی و عالمی امور پر ایران کی سفارتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔وہ 2013ء سے 2021ء تک ایران کے وزیر خارجہ رہے۔ انہوں نے 2015ء کے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) تک پہنچنے والے مذاکرات میں بھی مرکزی کردار ادا کیا اور کثیرالجہتی سفارت کاری اور بین الاقوامی مذاکرات میں ان کی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا کہ ابھرتے ہوئے قطبی طاقتوں سے ماوراء عالمی نظام نے علاقائی ممالک کے لیے چیلنجز کے ساتھ ساتھ نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ ضرورت ہے کہ سلامتی کے خطرات پر مرکوز روایتی سوچ سے نکل کر ایسے نقطہ نظر کو اختیار کیا جائے جس میں علاقائی ملکیت، مکالمے، تعاون اور مشترکہ خوشحالی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ عالمی برادری کس نوعیت کی دنیا میں داخل ہورہی ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کس قسم کا مستقبل تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کوئی پہلے سے طے شدہ منزل نہیں بلکہ معاشروں کے بیانیوں، اداروں، روابط اور فیصلوں کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔خطے کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ظریف نے کہا کہ مغربی ایشیا نے نوآبادیات، تقسیم، فرقہ واریت، قبضے، حملوں، بیرونی سرپرستی میں ہونے والے تنازعات، دہشت گردی، پابندیوں اور بار بار کی فوجی جارحیت کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں غلط اندازوں، اخراج، غلبے اور سلامتی کی ذمہ داری دوسروں کو سونپنے کے نتائج سے اہم اسباق ملتے ہیں تاہم تاریخ اس وقت قید خانہ بن سکتی ہے جب معاشرے ماضی کے تنازعات اور شکایات کی یادوں میں پھنسے رہیں۔ان کے بقول معاشروں کو ماضی کا دیانت داری سے سامنا کرنا ہوگا تاکہ ان امکانات کو دوبارہ حاصل کیا جاسکے جنہیں ماضی کے تنازعات نے دبا دیا تھا۔بین الاقوامی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر جواد ظریف نے موجودہ ماحول کو ’’پوسٹ پولر ورلڈ‘‘ قرار دیا جہاں طاقت مختلف خطوں،معاشروں، منڈیوں، ٹیکنالوجی، نیٹ ورکس اور عوامی بیانیوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ایک ریاست تمام بڑے نتائج کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جبکہ درمیانی درجے کی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو اپنی سٹریٹجک پالیسیوں کے حوالے سے زیادہ گنجائش حاصل ہوئی ہے۔مستقل اتحادوں اور روایتی وفاداریوں کی جگہ اب مخصوص مسائل کی بنیاد پر اتحاد اور نیٹ ورک تعلقات جنم لے رہے ہیں جبکہ اقتصادی باہمی انحصار، ٹیکنالوجی، معلومات اور غیر ریاستی عناصر بھی سلامتی اور سیاسی نتائج کی تشکیل میں بڑھتا ہوا کردار ادا کررہے ہیں۔ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا کہ موجودہ ماحول ایک نئی علاقائی سیاسی سوچ کا تقاضا کرتا ہے۔ سلامتی کے تصور کو زیادہ جامع بنانا ہوگا کیونکہ ایک ملک دوسرے کے لیے عدم تحفظ پیدا کرکے طویل مدتی سلامتی حاصل نہیں کرسکتا۔ ضرورت ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف سلامتی کے بجائے ’’ایک دوسرے کے ساتھ سلامتی‘‘ کے تصور کو فروغ دیا جائے۔انہوں نے اپنے اقدام ’’مسلم ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ ایسوسی ایشن‘‘ (ایم ڈبلیو اے ڈی اے) کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو کی۔ ان کے مطابق اس فریم ورک کا مقصد مکالمے، ثقافتی روابط، اقتصادی تعاون اور بالآخر علاقائی عدم جارحیت کے ایک نظام کے ذریعے دشمنی کو دوستانہ تعلقات میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں پاکستان مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ڈبلیو اے ڈی اے کے وسیع تر فریم ورک میں پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ خلیج فارس کے ساحلی ممالک کی شرکت کا تصور بھی شامل ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایم ڈبلیو اے ڈی اے کو کسی مکمل یا جامد انتظام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک ایسا ادارہ جاتی امکان ہے جو شریک ممالک کی ضروریات کے مطابق وقت کے ساتھ ارتقاء پذیر ہوسکتا ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جواد ظریف نے سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا اور کہا کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) بات چیت اور اختلافات کے پرامن حل کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتی ہے۔انہوں نے پیچیدہ علاقائی صورتحال سے نمٹنے میں پاکستان کے سفارتی تجربے کو بھی اہم اثاثہ قرار دیا۔اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا کہ ماضی یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف فوجی برتری سیاسی جواز پیدا نہیں کرسکتی، پابندیاں اور جبر پائیدار استحکام نہیں لا سکتے اور بیرونی ضمانتیں علاقائی انتظامات کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔انہوں نے زور دیا کہ تاریخ سے سبق ضرور سیکھا جائے لیکن اسے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا مستقبل تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں جغرافیہ سزا نہ ہو، تاریخ قید خانہ نہ بنے اور اختلافات کو مستقل تنازعات کا جواز نہ بنایا جائے۔ڈاکٹر ظریف نے کہا کہ اصل کام صرف یہ پیش گوئی کرنا نہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ مستقبل تعمیر کیا جائے جو آگے آنا چاہیے۔تقریب میں پاکستان کے سابق وزرائے خارجہ، سابق خارجہ سیکریٹریز، سفراء، اعلیٰ سول و عسکری حکام، ممتاز ماہرین تعلیم اور سکیورٹی تجزیہ کاروں نے شرکت کی۔







