قومی ادارہ صحت نے کانگو بخار سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی

قومی ادارہ صحت پاکستان نے کانگو بخار (سی سی ایچ ایف) سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کا مقصد بیماری کی روک تھام کے لئے بروقت اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔

اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):قومی ادارہ صحت پاکستان نے کانگو بخار (سی سی ایچ ایف) سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کا مقصد بیماری کی روک تھام کے لئے بروقت اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔ایڈوائزری کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوران کانگو بخار کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھیں اور بیماری کی منتقلی کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کریں۔قومی ادارہ صحت کے مطابق کانگو بخار ایک وائرس سے ہونے والی بیماری ہے جو Nairovirus کے باعث پھیلتی ہے۔ یہ وائرس بکری، بھیڑ اور خرگوش جیسے جانوروں کے جسم پر پائی جانے والی چیچڑوں میں موجود ہوتا ہے۔

انسانوں میں یہ بیماری چیچڑی کے کاٹنے، متاثرہ جانوروں کے خون یا بافتوں کے براہِ راست رابطے خصوصاً ذبح کے دوران یا اس کے فوراً بعد منتقل ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ وائرس ایک متاثرہ شخص سے دوسرے صحت مند فرد میں بھی منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کانگو بخار کا پہلا کیس 1976 میں رپورٹ ہوا تھا جبکہ بلوچستان میں اس بیماری کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آتے ہیں تاہم پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے بھی کیسز رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں ملک بھر میں سی سی ایچ ایف کے 61 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے جن میں شرح اموات 15 فیصد رہی۔ 2025 میں کیسز کی تعداد بڑھ کر 82 ہو گئی، جن میں 20 اموات ہوئیں جبکہ مارچ 2026 تک چار کیسز رپورٹ کئے جا چکے ہیں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی نقل و حرکت اور عوام کا جانوروں سے رابطہ بڑھ جاتا ہے جس کے باعث کانگو بخار کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے لہٰذا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں تاکہ چیچڑی آسانی سے نظر آ سکے۔جلد یا لباس پر موجود چیچڑی کو محفوظ طریقے سے ہٹا دیں۔ایسے علاقوں میں جانے سے گریز کریں جہاں چیچڑیوں کی بہتات ہو۔جانور ذبح کرتے وقت دستانوں کا استعمال کریں۔ جانوروں کے خون سے خود کو محفوظ رکھیں ۔قربانی کے بعد خون اور آلائشوں کو احتیاط سے تلف کریں ۔مزید معلومات کے لئے جاری کردہ ایڈوائزری قومی ادارہ صحت پاکستان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

C