اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کے اراکین نے کراچی کے پلازہ میں آتشزدگی سے ہونے والے جانی ومالی نقصان پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے جامع اقدامات کا مطالبہ کیاہے،کئی اراکین نے سانحہ کراچی کی جوڈیشل تحقیقات اورذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ بھی کیا۔منگل کوقومی اسمبلی میں سانحہ کراچی اورملک میں دہشت گردی وامن وامان کی صورتحال پربحث میں حصہ …
قومی اسمبلی اجلاس، اراکین کا کراچی کے پلازہ میں آتشزدگی سے ہونے والے جانی ومالی نقصان پر اظہار افسوس ،مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے جامع اقدامات اور سانحہ کراچی کی جوڈیشل تحقیقات وذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کے اراکین نے کراچی کے پلازہ میں آتشزدگی سے ہونے والے جانی ومالی نقصان پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے جامع اقدامات کا مطالبہ کیاہے،کئی اراکین نے سانحہ کراچی کی جوڈیشل تحقیقات اورذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ بھی کیا۔منگل کوقومی اسمبلی میں سانحہ کراچی اورملک میں دہشت گردی وامن وامان کی صورتحال پربحث میں حصہ لیتے ہوئے پی پی پی کی سیدہ شہلارضانے کہاکہ کراچی کا حادثہ دردناک ہے،اس معاملہ پرسیاست کرنے کی بجائے سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا وجہ ہے کہ کیمیکلز کے باوجود آگ نہیں بجھ رہی تھی،پلازہ میں 1021دکانیں تھیں، 1998ء میں مزید179دکا نیں بنانے کا فیصلہ ہوا اوراس کو 2003ء میں ریگولرائزکیاگیا،اس وقت سندھ حکومت اورشہرکی حکومت کس کے پاس تھی،یہ سب کوپتہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب یہ حادثہ ہواتودکاندارخود ٹی وی چینلزکو بتارہے تھے کہ 26میں سے 24ایگزٹ پوائنٹس بند تھیں،انہوں نے کہاکہ ریسکیو،فائربریگیڈ اوردیگرعملہ وقت پرپہنچاتھا،150واٹرٹینک وہاں پرپہنچائے گئے،ایم اے جناح روڈ پرٹریفک کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامناکرنا پڑا،کرائوڈ منیجمنٹ بہترنہیں تھی، کے ایم سی کے ایک فائرفائٹرکی شہادت بھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ آگ سے ہلاکتیں ہوتی رہتی ہیں،کیلی فورنیا اورسوئٹزرلینڈمیں بھی آگ سے انسانی جانوں کا نقصان ہواتھا،اسی طرح لاہورکے حفیظ سینٹرمیں بھی آگ لگتی رہی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ سندھ واحدصوبہ ہے جہاں بلدیاتی اداروں نے اپنی مدت مکمل کی ہے، اصلاحات ہونی چاہیئں اورمقامی حکومتیں بھی ہونی چاہئیں مگرآج اس موقع پراس طرح کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں تھیں۔اسدقیصرنے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عمل درآمدہونا چاہیے، ہماری جماعت اس پلان میں شامل ہے، ہم دہشت گردی کوناسورسمجھتے ہیں اوراس کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آئین اورقانون کے مطابق این ایف سی کے تحت صوبوں کوان کے جائزفنڈزملنے چاہئیں،این ایف سی کے تحت خیبرپختونخوا کو647ارب روپے کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ایس ڈی پی میں پورے صوبہ کیلئے 55کروڑروپے رکھے گئے ہیں، سابق فاٹاکے اضلاع کیلئے ایک ہزارارب روپے کے اضافی فنڈز کا وعدہ کیاگیاتھا مگراس پرعمل درآمدنہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ میں تجویزکروں گاکہ سپیکرآفس میں قومی جرگہ بلایاجائے،اس میں وزیراعلیٰ اورتمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں اورصورتحال کا جائزہ لیاجائے۔
اسدقیصرنے کہاکہ اس وقت پورے خطے میں غیریقینی کے حالات ہیں،ہماری خواہش ہے کہ دہشت گردی کے معاملہ پرپارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے۔انہوں نے افغانستان کے ساتھ معاملات کوسفارتی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کراچی کے گل پلازہ سانحہ پرافسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں پانی سمیت دیگرمسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔شہریارآفریدی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ کراچی میں جوکچھ ہواہے اس سے انسانی جان ومال کے تحفظ کے حوالہ سے سوالات اٹھ رہے ہیں،18ویں ترمیم کے بعد پی ڈی ایم اے صوبوں کے زیرنگرانی ہے،ہم نے بلدیہ ٹائون جیسے واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا، اس سے شہریوں کا نقصان ہورہاہے۔
انہوں نے کہاکہ سابق فاٹا کے اضلاع میں لوگوں کومشکلات کا سامناہے،آئی ڈی پیز کے مسائل کوحل کرنے کی ضرورت ہے،لوگ کیمپوں میں پڑے ہیں ہمیں اس کا احساس کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی اورسینیٹ میں اپوزیشن لیڈران کی تعیناتی کے بعداعتمادسازی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔محمدعثمان بادینی نے کہاکہ سانحہ کراچی افسوسناک ہے،بلوچستان میں بجلی اورگیس کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، گوادرمیں پانی کا مسئلہ موجودہے،ریکوڈک،سینڈک جیسے پراجیکٹ بلوچستان میں ہیں مگرغربت اوربے روزگاری کی شرح چاغی،واشک اورخاران میں ہے۔لوگ 12سو کلومیٹرکا سفرکرکے صحت کی سہولیات حاصل کررہے ہیں۔
ہمارے نوجوان پڑھے لکھے ہیں انہیں روزگارکی فراہمی چاہیے،تعلیم کیلئے وفاقی حکومت زیادہ سے زیادہ وظائف دے، ہمارے پاس وسائل موجودہیں جن کوبروئے کا رلاکرصوبہ کوخوشحال بنایاجاسکتاہے۔نورعالم خان نے کہاکہ کراچی اوردہشت گردی پر عملی اقدامات کرنے چاہئیں،ملک میں امن کے بعددہشت گردوں کوتحریک انصاف کے دورمیں واپس لایاگیا، پاکستان میں رہنے والے پشتون پاکستانی ہیں اور ہماری پہچان پاکستان ہے،افغانستان نے توہمیں رنجیت سنگھ اورانگریزوں کے رحم وکرم پرچھوڑاتھا،ہماراصوبہ بجلی، تیل وگیس اورمعدنیات سے مالامال ہے ہمیں اپنا حق دیا جائے،دہشت گردی کے حوالہ سے متفقہ لائحہ عمل اختیارکرنا چاہئے۔اسدنیازی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ سانحہ کراچی پرپورے پاکستان کودکھ ہے،سانحہ کے بعد10 بجکر 17منٹ پرمیں وہاں پرموجودتھا اورمیں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھاہے،کراچی پرجتنے مظالم ڈھائے ہیں وہ سب کے سامنے ہے،
ماضی میں ایک سیاسی جماعت کے لیڈرنے ایک پوراڈھانچہ بنایاتھا،کراچی کے بنیادی ڈھانچہ کوجان بوجھ کرتباہ کیاگیا،ٹی پی ٹوایریا میں 300ایکڑ پرپانی کیلئے تنصیبات بنانی تھی وہاں پرایک پوری بستی بنائی گئی ہے، تقریروں کی بجائے مل بیٹھ کرکراچی کے مسائل کوحل کرنا چاہیے۔پی پی پی نے 3سال میں 37سال کی غلطیاں اورمسائل کودرست کرنے کی کوشش کی ہے،ماضی میں ایک لیڈرنے کراچی میں نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم لیکرانہیں بندوق پکڑائی تھی،صوبائی حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے ایک ایک کروڑ روپے کے معاوضہ کا اعلان کیاہے،
جن تاجروں کا نقصان ہواہے انہیں پوراکیاجائیگا۔محمدوسیم نے کہاکہ اگریہ آگ گل پلازہ کی بجائے کسی حکومتی عمارت میں لگتی توکیااسے بجھانے میں اتنی دیرلگتی، اس واقعہ میں میرافیملی کزن بھی شہید ہواہے،جانی نقصان کے علاوہ لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہواہے،اس واقعہ کی جوڈیشل تحقیقات ہونی چاہیئں اورذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ تمام صوبوں کواس کا حق ملناچاہیے۔ حامدحسین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ہم نے ہمیشہ امن کیلئے آوازبلندکی ہے،لوگ اپنے علاقوں میں جانے کیلئے اجازت مانگ رہے ہیں۔
علی محمدخان نے کہاکہ کراچی کا واقعہ افسوسناک ہے اوراس پرسیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے،بلڈنگ کوڈزپرکا م کرنا ضروری ہے،اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے۔نیویارک میں 100سال پہلے آتشزدگی کے واقعہ کے بعدکوڈز بنائے گئے جوآج تک نافذالعمل ہے،ہماری حکومت میں مری میں برف باری کے دوران لوگوں کی ہلاکتوں کا واقعہ ہواتھا،
کیا اس کے بعدبرف باری کے حوالہ سے کوئی کا م ہواہے،وزرائے اعلیٰ اپنے متعلقہ صوبوں میں اس حوالہ سے کا م کریں،قومی اسمبلی یہ معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپردکرکے ایک پالیسی بنائے اوراسے وزیراعلیٰ سندھ سے شئیرکیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ لوکل باڈیز میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا، بلدیاتی اداروں کومضبوط بنانا ضروری ہے۔








