قومی اسمبلی اجلاس میں کے الیکٹرک کی کارکردگی پر گرما گرم بحث ،کے الیکٹرک کو 200 میگاواٹ اضافی بجلی کی پیداوارکیلیے مزید 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دیں گے، وفاقی وزیرتوانائی عمرایوب خان

اسلام آباد ۔ 9 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیرتوانائی عمرایوب خان نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کو مسائل سے نکالنے کیلیے وفاقی حکومت خصوصی اقدامات کررہی ہیں، کے الیکٹرک کو 200 میگاواٹ اضافی بجلی کی پیداوارکیلیے مزید 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دیں گے، نیپرا میں سندھ کا نمائدہ حکومت سندھ نے نامزد کیا ہے،سندھ حکومت اس کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے' نیپرا میں کے …

اسلام آباد ۔ 9 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیرتوانائی عمرایوب خان نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کو مسائل سے نکالنے کیلیے وفاقی حکومت خصوصی اقدامات کررہی ہیں، کے الیکٹرک کو 200 میگاواٹ اضافی بجلی کی پیداوارکیلیے مزید 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دیں گے، نیپرا میں سندھ کا نمائدہ حکومت سندھ نے نامزد کیا ہے،سندھ حکومت اس کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے’ نیپرا میں کے الیکٹرک کے معاملے پر کل سماعت ہے کراچی میں غفلت سے پانی کھڑا ہونے پر حادثات کے ذمہ داروں کیخلاف سندھ حکومت کارروائی کرے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو قومی اسمبلی میں آغا رفیع اللہ اردیگر ارکان کے توجہ دلائو نوٹس پرکہی۔ عمر ایوب نے کہا کہ نیپرا کابینہ ڈویژن کے تحت آتا ہے، کے الیکٹرک کا مسئلہ برسوں سے ہے۔ موجودہ حکومت کراچی کو بجلی کی سپلائی کے معاملہ پر کام کر رہی ہے، اس وقت تک کراچی کو 30 ہزار میٹرک ٹن ایندھن اور 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کراچی کے عوام کی دشواری دور کرنے کے لیے دے رہے ہیں۔ کے الیکٹرک کا سسٹم ایسا نہیں کہ نیشنل گرڈ سے مزید بجلی حاصل کرسکے، کراچی ایسٹ اور ویسٹ میں دو گرڈ سٹیشن بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نیپرا میں چار صوبائی نمائندے ہوتے ہیں اور اسلام آباد سے چیئرمین ہوتا ہے ‘ سندھ کے ممبرز کو ‘کے الیکٹرک’ کے تحفظ کی بجائے اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے، وہ حکومت سندھ کی طرف سے ہدایات دیتے ہیں،حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے معاوضے کم کرنے میں بھی سندھ کے ممبر نے کمی کی کوشش کی، کل بھی ایک واقعہ ہوا ہے، ان چیزوں کا نوٹس لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت عوام کے دکھوں کا ازالہ کرنا چاہیے، 200 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے لیے مزید گیس دے رہے ہیں تاکہ کراچی کے شہریوں کو ریلیف ملے۔آغا رفیع اللہ نے کہا کہ کے الیکٹرک کے ساتھ جو معاہدہ ہوا ہے اس کا جائزہ لینا چاہیے، اگر سندھ کا نمائندہ صحیح کام نہیں کر رہا تو اسے ہٹا دیا جائے۔ حکومت ایکشن لے ہم ساتھ دیں گے۔ میرے حلقے میں دو مزدور شہید ہوگئے ہیں۔ عمر ایوب نے کہا کہ کے الیکٹرک کے مسائل کو حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، دو مشترکہ ڈیلوری پوائنٹ بنانے جارہے ہیں۔ یہ معاہدے سے ہٹ کر چیزیں ہیں، کے الیکٹرک کے مسائل کو نیپرا دیکھ رہی ہے، پرسوں اجلاس بھی ہو رہا ہے، پی پی پی سندھ حکومت کے نمائندے کو ہدایات دیں، مون سون کی بارش شروع ہوتی ہے وہاں جب پانی جمع ہوگا تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے، ایف آئی آر ذمہ داروں کے خلاف بھی ہونی چاہیے۔ شگفتہ جمعانی نے کہا کہ کے الیکٹرک والے کہتے ہیں کہ ہم نجی ادارہ ہیں جب بجلی نہیں ہوگی تو واٹر پمپ کیسے چلیں گے۔ انہوں نے کے الیکٹرک معاہدے کی تفصیلات سے ایوان کو آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ کے الیکٹرک پی پی پی دور میں تھی، بلڈوزروں اور ایکسیکیوٹرز کے لیے کون سی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ ایوان میں بیانات دیے جاتے ہیں، امتیاز شیخ نے نیپرا کو خط لکھا ہے کہ کے الیکٹرک کو جرمانہ کیا جائے، ہمیں بتایا جائے کہ کتنے دنوں میں یہ معاملہ حل ہوگا۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ کے الیکٹرک سندھ کی سرزمین پر ہے، وہاں پر پی پی پی کی حکومت ہے، کراچی کے عوام کو سہولیات کے لیے ہم کام کر رہے ہیں جس پر ڈپٹی سپیکر جناب قاسم سوری نے کہا کہ ٹائم فریم بنایا جائے۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ حکومت نے مزید 200 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے لیے کے الیکٹرک کو گیس دینے کا فیصلہ کیا ہے،اس کا مستقل حل دو سال میں نکل آئے گا جب دو ڈیلیوری پوائنٹ بنیں گے۔ شمیم آراء پنہور نے کہا کہ عوام کی تکلیف کو محسوس کرنا چاہیے۔ وفاقی وزیر عمر ایوب خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کھا پی کر چلی گئی ہے’ مسائل ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ توجہ دلائو نوٹس پر سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں لیکن اس کی بجائے صرف ایک جواب ہوتا ہے،ہم نے ہمیشہ کوشش کی کہ حالات ٹھنڈے رہیں اور ماحول خوشگوار ہو۔ یہ ہائوس اس لئے نہیں کہ آپ ہر وہ بات فلور پر کہہ دیں جس کا نہ سر ہو اور نہ پیر، ہاوس کو تماشہ نہ بنایا جائے اور دوسروں کی عزت کرنا سیکھیں۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ توجہ دلائونوٹس پر انہوں نے حقائق سامنے رکھے ، کے الیکٹرک کو اپنا سسٹم اپ گریڈ کرنے پر موجودہ حکومت نے مجبور کیا ہے، اپوزیشن کو مستقبل میں اندھیرا نظر آرہا ہے،انہوں نے کہاکہ کراچی کے شہر کے لیے تمام تر اقدامات کئے جارہے ہں،سابقہ حکومتوں کو سسٹم پر توجہ دینی چاہیے تھی لیکن اب اس کا مستقل حل نکالا جارہا ہے، اب تمام ذرائع سے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے، ہم ورثہ میں ملے مسائل کو بار بار اجاگر کرتے رہیں گے۔