قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان کی بھارتی جارحیت کی پرزور مذمت

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھارتی جارحیت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح بھارتی عزائم کے سامنے کھڑی ہے، بھارتی وزیراعظم خطے کے امن کے لئے خطرہ بن چکے ہیں، پاکستان کی اقلیتیں ملکی دفاع کے لئے مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں، مودی کا …

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھارتی جارحیت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح بھارتی عزائم کے سامنے کھڑی ہے، بھارتی وزیراعظم خطے کے امن کے لئے خطرہ بن چکے ہیں، پاکستان کی اقلیتیں ملکی دفاع کے لئے مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں، مودی کا جنگی اور وحشی جنون ناقابل قبول ہے، مودی کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ایم ایم عالم کا پاکستان ہے اور پاکستان کا ہر شہری آج ایم ایم عالم ہے، پاکستان سفارتی اور اقتصادی محاذ پر جو کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، بھارت اسے برداشت نہیں کر پا رہا، مودی کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ اپنے شیطانی عزائم سے باز رہے، ورنہ ہم انہیں نیست و نابود کریں گے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے ناز بلوچ نے بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی کا جنگی اور وحشی جنون ناقابل قبول ہے، مودی کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ایم ایم عالم کا پاکستان ہے اور پاکستان کا ہر شہری آج ایم ایم عالم ہے، میری اقوام متحدہ اور اسلامی امہ سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملے پر اور کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، پاکستان اور بھارت نیوکلیئر ریاستیں ہیں اور کسی کی غلطی بھیانک ثابت ہو سکتی ہے، ملک کی حفاظت کے لئے ملک کا بچہ بچہ اور پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے۔ امجد علی خان نے کہا کہ بھارتی جارحیت ناقابل قبول ہے، پاکستان کی سالمیت اور دفاع کے لئے ہماری مسلح افواج کی قربانیاں پوری دنیا کے سامنے عیاں ہیں، پاکستان سفارتی اور اقتصادی محاذ پر جو کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، بھارت اسے برداشت نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جوش اور ہوش کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا، ہمیں اپنی مسلح افواج پر بھرپور اعتماد ہے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کرنا چاہیے اور اس جہاد میں پوری قوم اپنی جان و مال کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستان کا قرآن، آخرت پر ایمان ہے اور شوق شہادت و جذبہ جہاد مسلمانوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ شیر علی ارباب نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحیت پر آج پورا ایوان متحد ہے، قوم ربط ملت سے قائم ہے، آج یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کی پارلیمان ایک ذمہ دار پارلیمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر ہم کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریہ نفرت اور تنگ نظری کا نظریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جانب جدوجہد آزادی کامیابی سے ہمکنار ہو گی، ہمیں او آئی سی پر واضح کرنا چاہیے کہ او آئی سی مسلمانوں کا پلیٹ فارم ہے۔ کیل داس نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم خطے کے امن کے لئے خطرہ بن چکے ہیں، پاکستان کی اقلیتیں ملکی دفاع کے لئے مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں، میں بھارت کے امن دوست ہندوﺅں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن کے لئے مودی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں۔ جے پرکاش نے کہا کہ نریندر مودی ایک دہشت گرد وزیراعظم ہے، پاکستان کی ہندو برادری بہادر مسلح افواج کے ساتھ ہے، بھارت کو پاکستان کی مسلح افواج کی صلاحیتوں کا عمل ہونا چاہیے۔ رانا ارادت نے کہا کہ بھارت نے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے جنگی اقدام کیا ہے، پاکستان کے عوام اور مسلح افواج جنون کے ساتھ مادر وطن کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی انسانیت کا دشمن ہے، وہ جنگ کے لئے جنگی جنون کا شکار ہے۔ لال چند نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، پاکستانی ایک بہادر قوم ہیں، ہم اپنے مادر وطن کا بھرپور دفاع کریں گے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد ہمیں متحد ہو کر دشمن کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنگیں جذبے سے جیتی جاتی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے کہا کہ پورا ایوان ملکی سلامتی کے لئے یک زبان ہیں، پوری قوم مادر وطن کے دفاع کے لئے متحد ہے۔ حامد حمید نے کہا کہ بھارت نے اپنے میڈیا کے ذریعے جتنا پروپیگنڈا کیا ہے وہ آج ناکام ثابت ہوا ہے، ہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ملکی دفاع کے لئے ہم مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، ضرورت پڑی تو اس ملک کے لئے اپنی جانیں قربان کریں گے۔ نزہت پٹھان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحٰت پر حکومت اور اپوزیشن نے جس طرح سے اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا ہے وہ خوش آئند ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی مسائل سے متعلق معاملات پر بھی اسی جذبہ کے تحت کام کیا جائے، پاکستان دعاﺅں سے بنا ہے اور اس کو کوئی بھی گزند نہیں پہنچا سکتا، ہمیں پاکستانی فوج پر فخر ہے، ملک کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔ صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ مودی اور بھارت نے بزدلانہ حملہ کیا ہے جو قابل مذمت ہے، ملکی دفاع اور جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ہم مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی پشت پر امریکہ اور ہماری پشت پر اللہ کی رحمت ہو گی، مودی کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ اپنے شیطانی عزائم سے باز رہے، ورنہ ہم انہیں نیست و نابود کریں گے۔ بھارت افغانستان میں اپنے کیمپوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کر رہا ہے، دنیا کو اس بارے میں باور کرانا ضروری ہے۔ شاہدہ رحمانی نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ رات کے اندھیرے میں اس طرح بزدلانہ طریقے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے جسے ہماری مسلح افواج نے بہادری سے ناکام بنا دیا، آج پارلیمان نے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ پوری پاکستانی قوم متحد ہے اور کوئی ہمیں میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، مودی سرکاری نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور اس پر عالمی ردعمل سے بوکھلا کر مودی پاکستان پر الزامات لگا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کی صورت میں پاکستان کی خواتین پوری قوم کے ساتھ شانہ بشانہ ہو گی۔ رانا فرمان اللہ بھٹی نے کہا کہ وہ 32 سال فوج میں رہے ہیں اور 65 اور 71 کی جنگوں میں حصہ لیا ہے، ایک بات کی خوشی ہوئی کہ سب نے یک زبان ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، ایسے مواقع پر جذبات میں بہہ کر ہم غلط فیصلے کرتے ہیں، ہمیں ہوش سے کام لیتے ہوئے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنا چاہیے، میں حکومت کو مشورہ دوں گا کہ وہ ٹھنڈے دماغ اور ہوش مندی سے صورتحال کا جائزہ لیں اور فیصلہ کریں، ایسا نہ ہو کہ جذباتی فیصلوں کے ذریعے ہم مودی کے عزائم کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔ ڈاکٹر نثار چیمہ نے کہا کہ اس نازک مرحلے پر قومی یکجہتی وقت کا تقاضا ہے، ملکی مفادات اور سالمیت کے تحفظ پر ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، ہندوستان نے ہمیں للکارا ہے اور اس کا جواب ہے کہ پوری قوم اس مرحلے پر اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔ غزالہ صفی نے کہا کہ آج یکجہتی کا جو پیغام آیا ہے وہ خوش آئند ہے، ہم امن پسند قوم ہیں لیکن ہم بزدل نہیں، پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور اس قلعے کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ محمد ہاشم نوتیزئی نے کہا کہ بھارت کو بتانا چاہتے ہیں کہ 22 کروڑ عوام اس بزدلانہ حرکت کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دشمن کو ایک مضبوط پیغام جائے گا، دوست ممالک کے ساتھ سفارتی روابط کو بھی تیز کرنا چاہیے۔ سردار نصر اللہ دریشک نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام پر مظالم ڈھا رہا ہے، کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق ملنا چاہیے، جس طرح محمد بن قاسم نے تاریخ کا رخ موڑا تھا اسی طرح اب پاکستانی قوم بھی مادر وطن کے دفاع کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ فرخ حبیب نے کہا ہے کہ بھارت کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، آج ساری قوم متحد ہے، کراچی سے کشمیر اور چترال سے بولان تک یکجہتی کا پیغام آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، کلبھوشن یادو کا واقعہ اس کا ثبوت ہے، سانحہ اے پی ایس اور بلوچستان کے واقعات پوری دنیا کے سامنے ہیں۔

Leave a Reply