قومی اسمبلی میں کشمیر پر تاریخی قرارداد متفقہ منظور،بھارت کے یکطرفہ اقدامات مسترد اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اعلانِ جنگ قرار

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین محمد قاسم نون کی جانب سے پیش کردہ جموں و کشمیر سے متعلق ایک تاریخی اور جامع قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں ایوان نے مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر ایک غیر …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین محمد قاسم نون کی جانب سے پیش کردہ جموں و کشمیر سے متعلق ایک تاریخی اور جامع قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں ایوان نے مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر ایک غیر حل شدہ بین الاقوامی تنازع ہے جس کا حل صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں پنہاں ہے۔

قرار داد میں حقِ خودارادیت کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیر کمیٹی نے اس عزم کو دہرایا کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔قرار داد میں برطانوی رکنِ پارلیمنٹ عمران حسین کی موجودگی اور برطانیہ میں مسئلہ کشمیر پر بحث کے آغاز کو عالمی آگاہی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے ان کی کوششوں کو سراہاگیا۔قرارداد میں پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے قوانین کو سیاسی اختلاف کچلنے کا حربہ قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی۔

ایوان نے مطالبہ کیا کہ بھارت 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کو فوری واپس لے اور مقبوضہ وادی کی آبادیاتی یا قانونی حیثیت تبدیل کرنے سے باز رہے۔عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بین الاقوامی مبصرین کو رسائی دینے پر مجبور کرے۔قرار داد میں مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا گیا۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ سندھ طاس معاہدے پر بھارت کا کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ اور پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ تصور ہوگا۔ڈپٹی سیپکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ نے قرار داد منظوری کے لئے ایوان کے سامنے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔

مزید خبریں