قومی اسمبلی نے 2 سالوں کے دوران 42 بلز سمیت توہین آمیز خاکوں، تحفظ ختم نبوت، بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم اور غیر قانونی اقدامات کے حوالہ سے 43 قراردادوں کی منظوری دی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ

اسلام آباد۔ 18 اگست(اے پی پی)ملکی پارلیمانی تاریخ کی 15ویں قومی اسمبلی نے گذشتہ 2 سالوں کے دوران مجموعی طور پر 42 بلوں سمیت توہین آمیز خاکوں، تحفظ ختم نبوت، بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم اور غیر قانونی اقدامات کے حوالہ سے 43 قراردادوں کی منظوری دی۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجہ میں 15ویں قومی اسمبلی …

اسلام آباد۔ 18 اگست(اے پی پی)ملکی پارلیمانی تاریخ کی 15ویں قومی اسمبلی نے گذشتہ 2 سالوں کے دوران مجموعی طور پر 42 بلوں سمیت توہین آمیز خاکوں، تحفظ ختم نبوت، بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم اور غیر قانونی اقدامات کے حوالہ سے 43 قراردادوں کی منظوری دی۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجہ میں 15ویں قومی اسمبلی نے 13 اگست 2018ء کو حلف اٹھایا۔ گذشتہ دو سالوں کے دوران پارلیمنٹ کے6 مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے جن سے 17 ستمبر 2018ء اور 12 ستمبر 2019ء کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کیا۔ 19 فروری 2020ء کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو بھارت کی طرف سے دی گئی دھمکی کو زیر بحث لانے کیلئے 28 فروری 2019ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا خصوصی مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا۔ قومی اسمبلی نے دو سالوں میں 2 نجی بلوں کی بھی منظوری دی جن میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز بل اور دستور (ترمیمی) بھی شامل ہے۔ دستور ترمیمی بل آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترامیم پر مشتمل ہے جو فاٹا کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں سے متعلق ہے۔ یہ بل قومی اسمبلی نے منظور کرکے سینٹ کو ارسال کر رکھا ہے۔ قومی اسمبلی نے 40 حکومتی بلوں کی منظوری دی جن میں دو فنانس بل بھی شامل ہیں۔ ان بلوں میں انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020ئ، اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل (ترمیمی) بل 2020ئ، زینب الرٹ بل 2020ئ، پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020ئ، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) بل 2020ئ، پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020ئ، 26ویں آئینی ترمیم بل 2019ئ، انتخابی ترمیم بل 2019ء اور اسلام آباد ہائی کورٹ (ترمیمی) بل 2019ء سمیت دیگر بھی شامل ہیں۔ موجودہ قومی اسمبلی نے گذشتہ دو سالوں کے دوران پارلیمانی سال کے دن پورے کئے۔ قومی اسمبلی نے جن 43 متفقہ قراردادوں کی منظوری دی ان میں ڈچ پارلیمنٹ میں توہین آمیز خاکوں کی مذمت، ملک میں نئے ڈیموں کی تعمیر، ملک میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر، بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اظہار تعزیت، وزیراعظم آزاد کشمیر کے ہیلی کاپٹر پر بھارتی حملہ کی مذمت، ایوان میں تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولۖ کے بعد قومی ترانہ بجانے، مولانا سمیع الحق کے قتل کی مذمت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں 27 اکتوبر 1947ء کی یاد میں یوم سیاہ، حضور نبی پاکۖ کے یوم ولادت، مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو حق خود ارادیت دینے کے مطالبہ، آرمی پبلک سکول کے معصوم طلبا کی شہادت، 26 اور 27 فروری 2019ء کو بھارتی جارحیت کی مذمت، بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی مذمت، ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذموم حرکت کی مذمت، انڈین سٹیزن (ترمیمی) ایکٹ 2019ء کی مذمت، بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت، ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے، وفاقی دارالحکومت کی تمام یونیورسٹیوں میں اردو ترجمہ کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم و ترویج، تمام سرکاری اور غیر سرکاری دستاویزات میں حضور اکرمۖ کا اسم مبارک صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ لکھنے کو لازمی قرار دینے اور حضور نبی اکرمۖ کے اسم مبارک کے ساتھ خاتم النبین بولنے اور لکھنے سمیت دیگر قراردادوں کی منظوری دی گئی۔

مزید خبریں