قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے جینڈر مین سٹریمنگ کا اجلاس،ادارہ جاتی مضبوطی اور احتساب کی فوری ضرورت پر زور

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے جینڈر مین سٹریمنگ کی چیئر پرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل تشدد صنفی بنیاد پر تشدد کی ایک ابھرتی ہوئی اور خطرناک شکل ہے، خواتین کے خلاف ڈیجیٹل بدسلوکی کی نوعیت اور وسعت کا فوری جائزہ لینے، قانون، پالیسی، نفاذ اور متاثرین کی معاونت کے نظام میں موجود خلا کی نشاندہی کی اشد ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی …

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے جینڈر مین سٹریمنگ کی چیئر پرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل تشدد صنفی بنیاد پر تشدد کی ایک ابھرتی ہوئی اور خطرناک شکل ہے، خواتین کے خلاف ڈیجیٹل بدسلوکی کی نوعیت اور وسعت کا فوری جائزہ لینے، قانون، پالیسی، نفاذ اور متاثرین کی معاونت کے نظام میں موجود خلا کی نشاندہی کی اشد ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے جینڈر مین سٹریمنگ کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کی چیئر پرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ کمیٹی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خواتین کے خلاف تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات پر موثر ردعمل نہ دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کے حوالے سے متنازع عدالتی تشریح کا عدالتی جائزہ یقینی بنایا جائے تاکہ آئین اور قانون کی روح و متن خصوصاً فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ 2006 کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ڈیجیٹل تشدد صنفی بنیاد پر تشدد کی ایک ابھرتی ہوئی اور خطرناک جہت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے خلاف ڈیجیٹل بدسلوکی کی وسعت اور نوعیت کا جائزہ لیا جائے، قانون، پالیسی، نفاذ اور متاثرین کی معاونت کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جائے اور متعلقہ وزارتوں، اداروں، ماہرین اور متاثرین سے شواہد سنے جائیں۔

اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ادارہ شدید وسائل کی کمی کا شکار ہے جن میں تربیت یافتہ عملہ اور مالی وسائل شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2025ء کے دوران مجموعی طور پر 22,500 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 620 کیسز درج کئے گئے جبکہ صرف 26 میں سزائیں ہو سکیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسطاً ایک افسر تقریباً 565 شکایات دیکھ رہا ہے۔

چیئرمین این سی سی آئی اے نے بجٹ میں سنگین خلا، تحقیقاتی افسران خصوصاً خواتین افسران کی شدید کمی اور پراسیکیوٹرز کی عدم دستیابی پر بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی کے معزز اراکین نے خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد سے نمٹنے میں این سی سی آئی اے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ خود اراکین کی جانب سے درج کروائی گئی شکایات بھی زیر التواء رہیں۔

کمیٹی نے ادارہ جاتی مضبوطی اور احتساب کی فوری ضرورت پر زور دیا۔چیئرپرسن پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں سال کے دوران 15 لاکھ سے زائد یو آر ایل بلاک کیے گئے جن میں 6,042 بہتان اور جعل سازی سے متعلق اور 13,780 غیر اخلاقی مواد سے متعلق تھے جو مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر پائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ 5,000 غیر مجاز سمز کی نشاندہی کر کے انہیں بلاک کیا گیا۔

کمیٹی نے بین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ موثر رابطہ کاری اور پلیٹ فارم کی جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا۔یو این ڈی پی، یو این ایف پی اے اور یو این ویمن کی نمائندہ تنظیموں نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

 

مزید خبریں