قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس قائم مقام رکن قومی اسمبلی چیئرمین ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی زیر صدارت میں منعقد ہوا۔کمیٹی نے سفارش کی کہ اقتصادی امور ڈویژن کی معاونت سے کمیٹی کے چار سے پانچ ارکان پر مشتمل ایک مشترکہ مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس، کراچی و سندھ کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں دور کرنے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس قائم مقام رکن قومی اسمبلی چیئرمین ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی زیر صدارت میں منعقد ہوا۔کمیٹی نے سفارش کی کہ اقتصادی امور ڈویژن کی معاونت سے کمیٹی کے چار سے پانچ ارکان پر مشتمل ایک مشترکہ مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائے جس میں وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، وزارت خزانہ و محصولات، سندھ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سندھ محکمہ خزانہ، واپڈا اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو اینڈ ایس سی )کے نمائندے شرکت کریں۔کمیٹی نے زور دیا کہ اجلاس میں کراچی اور سندھ کے اہم ترقیاتی و انفراسٹرکچر منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے، زیر التوا مسائل، بین الادارہ جاتی اور مالیاتی رکاوٹوں کی نشاندہی اور انہیں دور کرنے کے لئے مربوط اقدامات وضع کئے جائیں تاکہ وسیع تر عوامی مفاد میں ان منصوبوں پر عملدرآمد تیز کیا جا سکے۔کمیٹی کو مین لائن-1 (ML-1) ریلوے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ منصوبہ تقریباً 1800 کلومیٹر ریلوے ٹریک پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد پاکستان کے اہم ریلوے کوریڈور کو جدید خطوط پر استوار اور اپ گریڈ کرنا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) کو منصوبے کے لئے مرکزی مالیاتی ادارے کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے جبکہ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی ) اور عالمی بینک کی جانب سے مشترکہ مالی معاونت کے وعدے کئے گئے ہیں۔
یورپی انویسٹمنٹ بینک (ای آئی بی )، اسلامی ترقیاتی بینک اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) نے بھی منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم ایل-1 صرف ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی اور اپ گریڈیشن تک محدود نہیں بلکہ اس میں پاکستان ریلوے کی مجموعی کارکردگی، پائیداری اور سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لئے ادارہ جاتی اور آپریشنل اصلاحات بھی شامل ہیں۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے ڈیزائن کا دوبارہ جائزہ لے کر ممکنہ خامیوں اور ضروری اصلاحات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نظرثانی کے بعد ایم ایل -1 منصوبے کی مجموعی تخمینہ لاگت تقریباً 6.68 سے 6.80 ارب امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے جو پہلے تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر تھی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم ایل-1 کے لئے انفراسٹرکچر کو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ٹرینوں کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا جا رہا ہے جبکہ موجودہ منصوبہ بندی کے مطابق آپریشنل رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوگی۔کمیٹی نے مجوزہ آپریشنل رفتار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ منصوبے میں جدید ریلوے ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی معیار سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ کمیٹی نے کہا کہ جہاں تکنیکی اور معاشی طور پر ممکن ہو، انفراسٹرکچر اور آپریشنل پیرامیٹرز کو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے تاکہ جدید انفراسٹرکچر کے مکمل فوائد حاصل کئے جا سکیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبہ تقریباً تین سال میں مکمل کرنے کی تجویز ہے۔کمیٹی نے کے فور واٹر سپلائی منصوبے کی پیش رفت اور تکمیل کے شیڈول پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کی متوقع تکمیل اپریل 2029 تک ہے۔بریفنگ کے دوران کمیٹی نے نشاندہی کی کہ کراچی کو اس وقت روزانہ 1200 ملین گیلن سے زائد پانی درکار ہے جبکہ آبادی میں اضافے، شہری پھیلاؤ اور گھریلو و تجارتی ضروریات بڑھنے کے باعث 2029-30 تک پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔کمیٹی نے ڈی سیلینیشن پلانٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ لی۔ بتایا گیا کہ پہلے تعمیر کئے گئے پلانٹ کا نیسپاک کی جانب سے جائزہ لیا گیا اور اسے تکنیکی اعتبار سے موزوں قرار نہیں دیا گیا۔کمیٹی نے زور دیا کہ کے فورمنصوبے کے تمام تکنیکی، مالی اور عملدرآمد سے متعلق پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جائے اور مزید تاخیر کے بغیر اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔کمیٹی نے سفارش کی کہ کے فور منصوبے کو وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے تحت جامع طور پر زیر غور لایا جائے جس میں وفاقی اور صوبائی سطح کے تمام متعلقہ فریق شامل ہوں۔کمیٹی نے زور دیا کہ مشاورت میں کراچی کی فوری اور طویل مدتی پانی کی ضروریات، منصوبے کے زیر التوا مسائل اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی جائے۔
کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی کہ قائمہ کمیٹی کے ارکان کو منصوبے کی پیش رفت کا مشاہدہ کرنے اور بروقت تکمیل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے مدعو کیا جائے۔کمیٹی کو M-6 سکھر۔حیدرآباد موٹروے منصوبے کے مالیاتی اور عملدرآمدی ڈھانچے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ منصوبے کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔حصہ اول اور دوئم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت جبکہ حصہ سوئم OPEC فنڈنگ اور حصے چہارم اور پنجم اسلامی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت سے مکمل کرنے کی تجویز ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پی پی پی جزو کے لئے مالیاتی مشیر کے طور پر خدمات فراہم کر رہا ہے۔کمیٹی نے مربوط مالیاتی انتظامات، ضروری مراحل کی بروقت تکمیل اور مؤثر نگرانی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ منصوبے پر مزید تاخیر کے بغیر پیشرفت یقینی بنائی جا سکے۔لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور (ایل ای ایف سی ) پر گفتگو کے دوران کمیٹی نے مالیاتی لاگت کو معقول بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی ) کو منصوبے کی مالیاتی انتظامات میں فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔کمیٹی نے کہا کہ منصوبے کے مالیاتی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ مالی استحکام یقینی بنایا، مالی بوجھ کم کیا اور منصوبے کے لیے موزوں اور کم لاگت مالیاتی انتظام اختیار کیا جا سکے۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے متعلق تعطل کے شکار اور تاخیر زدہ منصوبوں کو فعال طور پر آگے بڑھانے اور بہتر رابطہ کاری و سہولت کاری کے ذریعے عملدرآمد کے مرحلے تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ایس آ ئی ایف سی نے کمیٹی کو بتایا کہ تقریباً 40 ارب امریکی ڈالر مالیت کی ممکنہ سرمایہ کاری پائپ لائن تیار کرنے کے لئے مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ردعمل اور رابطہ کاری میں تاخیر سرمایہ کاری تجاویز کی تیاری اور پیش رفت میں رکاوٹ بنی تاہم مسلسل کوششوں اور ادارہ جاتی رابطہ کاری میں بہتری کے نتیجے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور معیشت کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر مشتمل جامع پائپ لائن تیار کی جا رہی ہے۔ایس آ ئی ایف سی نے بتایا کہ ابھرتی ہوئی سرمایہ کاری پائپ لائن میں صنعت و پیداوار، تیل و گیس، ریلوے، سڑکیں اور انفراسٹرکچر، بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، سیاحت، غذائی تحفظ اور زراعت سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔کمیٹی نے زور دیا کہ شناخت کئے گئے سرمایہ کاری مواقع کو بروقت فیصلوں، وفاقی و صوبائی اداروں کے مؤثر رابطے اور ریگولیٹری، مالی و انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کے ذریعے عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔کمیٹی نے کہا کہ متعلقہ وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور عملدرآمدی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری ضروری ہے تاکہ اہم نوعیت کے منصوبے طریقہ کار یا ادارہ جاتی رکاوٹوں کے باعث تاخیر کا شکار نہ ہوں۔کمیٹی نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ایسے منصوبوں کی مسلسل نگرانی اور قریبی رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ بروقت پیش رفت اور ان کے متوقع معاشی و عوامی فوائد کا حصول ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، شاہد عثمان، محمد خان ڈاہا، صبا صادق، اختر بی بی، نیلم، ہما چغتائی، سیدہ شہلا رضا اور محمد جاوید حنیف خان سمیت سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن، وزارت اقتصادی امور اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔








