قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس ، مختلف قانون سازی اور پالیسی امور پر غور

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس منگل کے روز چیئرمین کمیٹی محمد جاوید حنیف خان ایم این اے کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف قانون سازی اور پالیسی امور پر غور کیا گیا۔ ایجنڈے میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن (ترمیمی) بل، 2026ء، ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) بل، 2026ء اور ایک توجہ دلاؤ نوٹس شامل تھے

اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس منگل کے روز چیئرمین کمیٹی محمد جاوید حنیف خان ایم این اے کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف قانون سازی اور پالیسی امور پر غور کیا گیا۔ ایجنڈے میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن (ترمیمی) بل، 2026ء، ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) بل، 2026ء اور ایک توجہ دلاؤ نوٹس شامل تھے۔ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) بل، 2026ء پر غور کے دوران رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے کراچی کی منفرد معاشی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی ملک کی آمدن میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے، لہٰذا شہر کی نمائندگی ایک متحدہ اور واحد چیمبر کے ذریعے برقرار رہنی چاہیے۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ کراچی میں متعدد ضلعی چیمبرز کے قیام سے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی نمائندہ حیثیت اور مؤثریت متاثر ہو سکتی ہے۔کمیٹی اراکین نے قومی معیشت میں کراچی کے کلیدی کردار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ کمیٹی اراکین نے کہا کہ کسی بھی مجوزہ تبدیلی میں کراچی کے متحدہ چیمبر کے ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور ساتھ ہی ٹریڈ آرگنائزیشنز سے متعلق مجموعی قانونی فریم ورک کے ساتھ مطابقت بھی برقرار رہنی چاہیے۔سیکرٹری وزارتِ تجارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس معاملے پر ملک بھر میں مساوات اور یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ فریقین سے مشاورت ضروری ہے۔

کمیٹی میں اس امر پر وسیع اتفاقِ رائے پایا گیا کہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی موجودہ حیثیت برقرار رکھی جائے اور اس کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔معاملے کا جامع جائزہ لینے اور مناسب سفارشات مرتب کرنے کے لیے کمیٹی نے محمد نعمان، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محترمہ شائستہ پرویز اور اسد عالم نیازی پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔ ذیلی کمیٹی کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر کے ٹریڈ آرگنائزیشنز (ترمیمی) بل، 2026ء کے حوالے سے اپنی سفارشات اور نتائج کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کو انشورنس بل، 2026ء کا بھی جائزہ لینے اور اس حوالے سے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے لائف انشورنس نیشنلائزیشن (ترمیمی) بل، 2026ء کے بارے میں ذیلی کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی۔ بعد ازاں بل کی شق وار منظوری عمل میں لائی گئی اور بعض ترامیم کے ساتھ اسے قومی اسمبلی سے منظوری کے لیے سفارش کر دیا گیا۔محترمہ عالیہ کامران کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس پر غور کے دوران کمیٹی نے ملکی برآمدات کی کارکردگی اور برآمدی شعبے کو درپیش چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ سیکریٹری وزارتِ تجارت نے برآمدات کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرنے والے عوامل، جن میں توانائی کے اخراجات، مالی سہولیات، ٹیکسوں کا نظام، پیداواری صلاحیت اور مجموعی معاشی ماحول پر بریفنگ دی۔کمیٹی اراکین نے برآمدات کے فروغ، ویلیو ایڈیشن اور صنعتی مسابقت بڑھانے کے لیے متعلقہ فریقین سے مشاورت اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد توجہ دلائو نوٹس نمٹا دیا گیا۔ کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کاپی رائٹ (ترمیمی) بل، 2026ء کو اپنے آئندہ اجلاس میں زیرِ غور لایا جائے گاچیئرمین کمیٹی نے اراکین کی فعال شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔اجلاس میں اراکینِ قومی اسمبلی محمد نعمان، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محترمہ کرن حیدر، طاہرہ اورنگزیب، فرحان چشتی، خورشید احمد جونیجو اور ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے شرکت کی جبکہ اسد عالم نیازی نے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی۔اجلاس میں وزارتِ تجارت، وزارتِ قانون و انصاف، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔