قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کا اجلاس،آئی سی ٹی لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر بحث کیلئے الیکشن کمیشن حکام طلب

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات نے"کریمنل لاء (ترمیمی) بل 2025"پر غور کیا اور اسے ایوان سے منظور کرانے کے لیے متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ کمیٹی کا موقف تھا کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کی متعلقہ دفعات میں ترامیم سے مجرموں کے خلاف مؤثر مزاحمت پیدا ہوگی۔ کمیٹی نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر …

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات نے”کریمنل لاء (ترمیمی) بل 2025″پر غور کیا اور اسے ایوان سے منظور کرانے کے لیے متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ کمیٹی کا موقف تھا کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کی متعلقہ دفعات میں ترامیم سے مجرموں کے خلاف مؤثر مزاحمت پیدا ہوگی۔ کمیٹی نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر بحث کے لیے الیکشن کمیشن کے حکام کو اگلے اجلاس میں مدعو کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا۔بل کے محرک رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس بل کا مقصد عوامی مقامات پر تشدد، ڈرانے دھمکانے یا زبردستی کے ذریعے کیے جانے والے سٹریٹ کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 382A اور 181 میں مجوزہ ترامیم کا اطلاق ان تمام افراد پر ہوگا جو سٹریٹ کرائم کے ارتکاب، سہولت کاری یا اسے چھپانے میں ملوث ہوں گے۔

ان ترامیم کا بنیادی مقصد عوامی مقامات پر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، مجرمانہ رویے کی حوصلہ شکنی کرنا اور سٹریٹ کرائمز میں ملوث ملزمان کے خلاف استغاثہ اور سزا کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنانا ہے۔آئی سی ٹی لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2025 پر غور کرتے ہوئے کمیٹی نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو اگلے اجلاس میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بل اور اراکین کے تحفظات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی۔

کمیٹی کے اراکین نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جغرافیائی محل وقوع اور آبادی کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے حلقہ بندیاں کرنی چاہئیں۔کمیٹی نے حکومتی بل "ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2025” پر بحث اگلے اجلاس تک ملتوی کر دی اور وزارت قانون کو ہدایت کی کہ وہ اس مجوزہ قانون سازی پر بار کونسلز سے ان کی رائے طلب کرے۔تفصیلی بحث کے بعد کمیٹی نے شرمیلا فاروقی کا پیش کردہ "آئی سی ٹی جہیز پابندی بل 2025” اور شاہدہ رحمانی کا "آئی سی ٹی (تحفظِ مناظر) بل 2025” منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی کی رائے تھی کہ ان دونوں موضوعات پر پہلے ہی قوانین موجود ہیں، لہٰذا مزید قانون سازی کی ضرورت نہیں، البتہ موجودہ قوانین کے سخت نفاذ پر زور دیا گیا۔سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کے سیکٹرز E-12، C-13، C-14، C-15، C-16 اور H-16 میں حاصل کی گئی زمینوں کی ادائیگیوں میں تاخیر سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کرتے ہوئے کمیٹی نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ اگلے اجلاس میں ایک قابل عمل تجویز پیش کرے۔

کمیٹی نے زور دیا کہ جن شہریوں کی زمینیں حاصل کی گئی ہیں، انہیں مناسب معاوضہ ملنا چاہیے۔اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ و انسداد منشیات طلال چوہدری، اراکین قومی اسمبلی انجم عقیل خان، سیدہ نوشین افتخار، ملک شاکر بشیر اعوان، خواجہ اظہار الحسن، محترمہ رانا انصار، چوہدری نصیر احمد عباس (بذریعہ زوم)، محرکین شاہدہ رحمانی، محترمہ شرمیلا فاروقی (بذریعہ زوم)، ابرار احمد (خصوصی مدعو)، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

 

مزید خبریں