اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کے اجلاس میں اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ لاجز میں غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی مزیدسخت بنانے پر زور دیا ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کااجلاس ،ارکان قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ لاجز میں غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت پر شدید تحفظات کا اظہار ، سکیورٹی فول پروف بنانے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کے اجلاس میں اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ لاجز میں غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی مزیدسخت بنانے پر زور دیا ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں سیکیورٹی امور، زیر التواء قانونی بلز اور ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران اراکین نے ریڈ زون میں سیکیورٹی انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا، جس سے اراکین پارلیمنٹ کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے وضاحت کی کہ پارلیمنٹ ہاؤس اور لاجز کی سیکیورٹی کے تمام فیصلے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی ہدایات کے مطابق کئے جاتے ہیں۔
کمیٹی نے پارلیمنٹ لاجز میں غیر متعلقہ افراد کی موجودگی اور ناکارہ سی سی ٹی وی کیمروں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر مملکت کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کی شرکت یقینی بنائی جائے۔کمیٹی نے ضابطہ فوجداری (ترمیم) بل 2025: بل کو مزید غور کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجنے کی ہدایت کے ساتھ موخر کر دیا۔ خواجہ اظہار الحسن کےپاکستان سٹیزن شپ (ترمیم) بل 2025کو مزید مشاورت کے لیے موخر کر دیا گیا۔
محرک (شائستہ پرویز ملک) کی عدم موجودگی کے باعث اسلام آباد فوڈ فورٹیفیکیشن بل 2025 موخر کر دیا گیا ۔کمیٹی میں سیدہ نوشین افتخار کے گارڈینز اینڈ وارڈز (ترمیم) بل 2025 پر بحث ہوئی جس کے بعد کمیٹی نے وزارت قانون کو ہدایت دی کہ وہ محرک کے ساتھ مل کر بل کا جائزہ لے ۔سیکرٹری داخلہ اور متعلقہ محکموں کے سربراہان نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف سی ہسپتال جیسے منصوبے ابھی تک نامکمل ہیں۔
کمیٹی نے سرحدی گزرگاہوں پر زائرین کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی اور وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں ان منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کرنے پر زور دیا۔ سی ڈی اے اور آئی سی ٹی کے منصوبوں پر بحث کے دوران بتایا گیا کہ گزشتہ سال بجٹ کا 97 فیصد استعمال ہوا، جبکہ رواں سال اب تک 65 فیصد فنڈز استعمال ہو چکے ہیں۔ کمیٹی نے فنڈز کے اجرا میں تاخیر اور سست روی پر تشویش ظاہر کی۔
کمیٹی نے منشیات سے متاثرہ نابالغ بچوں کے لیے بحالی مراکز کے قیام پر بات کی۔ اسلام آباد میں 45 بستروں کے مرکز کو 100 بستروں تک بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اٹامک انرجی گیٹ نمبر 1 سے گیٹ نمبر 3 تک سڑک کی تعمیر کو پی ایس ڈی پی (PSDP) میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تاکہ تجاوزات کو روکا جا سکے۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ، سیدہ نوشین افتخار، ملک شاکر بشیر اعوان، سید رفیع اللہ، سردار نبیل احمد گبول، عبدالقادر پٹیل (بذریعہ ویڈیو لنک)، خواجہ اظہار الحسن، رانا انصار، محمد اعجاز الحق اور شازیہ مری سمیت وزارت داخلہ، قانون اور پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔








