روس میں 101 پاکستانی کمپنیوں کی رجسٹریشن، آلو کی برآمدات کے فروغ کی راہ ہموار
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ نے برآمدات میں سہولت اور انسداد سمگلنگ کے لیے وفاقی سطح پر بین الوزارتی و بین الصوبائی رابطہ سیل کے قیام کی سفارش کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا ہےکہ کمیٹی کی سابقہ ہدایات کی تعمیل میں 7 جولائی 2026ء کو روسی فیڈریشن میں 101 کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی ہے تاکہ سابقہ درآمدی پابندیوں کے خاتمے کے بعد آلو کی برآمدات کو سہولت فراہم کی جا سکے،
قائمہ کمیٹی نے غذائی تحفظ، ضابطہ جاتی نگرانی، مارکیٹ کی نگرانی، برآمدات میں سہولت اور سرحد پار سمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے وفاقی سطح پر ایک مرکزی بین الوزارتی اور بین الصوبائی رابطہ سیل کے قیام کی سفارش کر دی،کمیٹی نے پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ فریقین پر مشتمل تکنیکی کمیٹی کا اجلاس بلائے تاکہ این آئی ایچ، صوبائی فوڈ اتھارٹیز اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سائنسی تحقیق کی روشنی میں مصنوعی مٹھاس اور کیمیائی اضافوں کے صحت پر اثرات کے حوالے سے مشروبات کے معیار پر نظرثانی کی جا سکے اور مصنوعی مٹھاس والے مشروبات سکولوں اور ہسپتالوں میں فروخت نہ کرنے کی بھی ہدایت کر دی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا 28واں اجلاس بدھ کو چیئرمین رکن قومی اسمبلی سید طارق حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کمیٹی نے ایجنڈا آئٹم نمبر III پر غور کیا جو آلو کی فصل کے بحران سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کے بارے میں تھا۔ وزارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ قائمہ کمیٹی کی سابقہ ہدایات کی تعمیل میں 7 جولائی 2026ء کو روسی فیڈریشن میں 101 کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی تاکہ سابقہ درآمدی پابندیوں کے خاتمے کے بعد آلو کی برآمدات کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ وزارت نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ رجسٹریشن آئندہ سیزن کے دوران آلو کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرے گی اور کسانوں کو مالی نقصانات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوگی۔کمیٹی نے وزارت کو ہدایت دی کہ موجودہ اضافی آلو کے ذخیرے کو فوری طور پر روسی منڈی میں برآمد کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ کسانوں کو مناسب اور منافع بخش قیمتیں مل سکیں۔ بریفنگ کے دوران وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ آلو کی کاشت کے زیر استعمال رقبہ 16۔2015 میں 177,700 ہیکٹر سے بڑھ کر 26 ۔2025 میں 462,160 ہیکٹر ہو گیا ہے تاہم کمیٹی نے وزارت کو ہدایت دی کہ اس کے غور و خوض کے لیے تصدیق شدہ اور مستند اعداد و شمار فراہم کیے جائیں۔قومی غذائی تحفظ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے، کمیٹی نے وفاقی سطح پر ایک مرکزی بین الوزارتی اور بین الصوبائی رابطہ سیل کے قیام کی سفارش کی تاکہ غذائی تحفظ، ضابطہ جاتی نگرانی، مارکیٹ کی نگرانی، برآمدات میں سہولت اور سرحد پار سمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔ سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کمیٹی کو بتایا کہ مجوزہ اقدام کے لیے پی سی-I کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اسے تین ماہ کے اندر نافذ کر دیا جائے گا۔ کمیٹی نے مقررہ مدت کے بعد اس اقدام پر پیش رفت کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔کمیٹی نے مزید فیصلہ کیا کہ وہ اپنے اگلے اجلاس میں آلو کی فصل کے بحران پر دوبارہ غور کرے گی اور وزارت کو ہدایت دی کہ وزیراعظم کے زرعی جدیدکاری اقدام پر ایک جامع بریفنگ پیش کی جائے۔کمیٹی نے وزارت سے وضاحت طلب کی کہ خیرپور میں کھجور تحقیقاتی مرکز کے قیام کے لیے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور کے مشترکہ منصوبے کو پی ایس ڈی پی 27 ۔2026 سے کیوں خارج کیا گیا۔ چیئرمین پی اے ار سی کو ہدایت دی گئی کہ وہ معزز اراکین کی جانب سے خیرپور اور ٹھٹھہ کے دوروں، ان دوروں کے دوران کیے گئے وعدوں اور ان مواقع پر کی گئی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) سے متعلق اٹھائے گئے سوالات پر تحریری جواب جمع کرائیں۔کمیٹی نے 80 سائنس دانوں کی تقرری کے لیے بھرتی کے عمل کی شفافیت پر بھی سوال اٹھایا۔ وزارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بھرتی کا عمل منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے ایجنڈا آئٹم نمبر IV پر غور کیا جو وزارت کے لیے اس کی سابقہ سفارش سے متعلق تھا کہ وہ جوس بنانے والوں، کسانوں، پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ)، پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) اور دیگر متعلقہ فریقین کے نمائندوں کے ساتھ ایک مشاورتی بین الوزارتی اجلاس منعقد کرے تاکہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کے معیار کا جائزہ لیا جا سکے اور ان کے ممکنہ صحت کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔وزارت نے مشاورتی اجلاس کی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ تمام صوبوں اور اسلام آباد کی فوڈ اتھارٹیز ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو جمع کرائیں۔ کمیٹی نےپاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو ہدایت دی کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کی شرکت کے ساتھ اپنی تکنیکی کمیٹی کا اجلاس منعقد کرے تاکہ این آئی ایچ، صوبائی فوڈ اتھارٹیز اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سائنسی تحقیق کی روشنی میں مصنوعی مٹھاس اور کیمیائی اضافوں کے صحت پر اثرات خصوصاً بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائوں پر ان کے اثرات کے حوالے سے مشروبات کے معیار پر نظرثانی کی جا سکے۔کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی صوبائی فوڈ اتھارٹیز کے لیے جامع رہنما اصول جاری کرے، پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی سے تسلیم شدہ لیبارٹریوں کے ذریعے مشروبات کی سہ ماہی جانچ کو لازمی قرار دے اور موثر نگرانی اور نفاذ کو یقینی بنائے۔ کمیٹی نے ممکنہ صحت کے خطرات کی نشاندہی کرنے والی واضح مصنوعات کی لیبلنگ، پیکنگ پر گمراہ کن پھلوں کی تصاویر پر پابندی اور خلاف ورزیوں پر سخت سزائوں کے نفاذ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ جوس مصنوعات میں پھلوں کے گودے کی کم از کم مقدار کم از کم 10 فیصد تک بڑھائی جائے۔عوامی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے سفارش کی کہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات سکولوں اور ہسپتالوں میں فروخت نہ کیے جائیں۔ کمیٹی نے صوبائی فوڈ اتھارٹیز سے موجودہ معیار کے تحت گزشتہ چھ ماہ کے دوران عائد کیے گئے جرمانوں اور لیے گئے نمونوں کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ پلاسٹک کے برتنوں میں جوس کی فروخت کی حوصلہ شکنی کی جائے کیونکہ اس طرح کی پیکنگ سے ممکنہ صحت کے خطرات وابستہ ہیں۔اجلاس کے دوران ملتان مینگو گروورز ایسوسی ایشن کے نائب صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کا ضرورت سے زیادہ استعمال بچوں میں قبل از وقت ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے رجحان کا باعث بن رہا ہے اور لبلبے کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ کمیٹی نے انہیں ہدایت دی کہ وزارت کو ارسال کرنے کے لیے تفصیلی سفارشات جمع کرائیں اور سفارش کی کہ انہیں بطور موضوعی ماہر پی ایس کیو سی اے کی تکنیکی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جائے۔کمیٹی نے آم کی برآمدات سے متعلق امور پر بھی غور کیا اور سفارش کی کہ برآمدی شیڈول کا تعین اقسام اور علاقوں کے مطابق کیا جائے، نہ کہ پورے ملک کے لیے یکساں ٹائم لائن کے ذریعے، کیونکہ سندھ میں آم پنجاب کی نسبت پہلے پک جاتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ کے کاشتکاروں کو برآمدی پابندیوں کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اجلاس میں ایم این ایز وسیم قادر، رانا محمد حیات خان،ندیم عباس ، عبد القادر، نذیر احمد بوگیو، سید جاوید علی شاہ، سید ابرار علی شاہ ، ذولفقار علی، سید علی شاہ شیرازی، وزارت فوڈ سکیورٹی، وزارت نیشنل ہیلتھ سروس ، وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے حکام نے شرکت کی ۔








