میئر کراچی نے ریٹائرڈ ملازمین میں 31 کروڑ روپے کے پنشن چیکس تقسیم، کے ایم سی پنشن کارڈ کا اعلان
میئر کراچی کاکے ایم سی پنشن کارڈ متعارف کرانے کا اعلان

مزید خبریں
کراچی۔ 08 جولائی (اے پی پی):میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے بلدیہ عظمی کراچی کے ریٹائرڈ ملازمین میں 31کروڑ روپے کے بقایاجات کے پنشن چیکس تقسیم کردیئے اور کے ایم سی پنشن کارڈ متعارف کرانے کا اعلان کیاہے۔
بدھ کو جاری اعلامیہ کے مطابق ریٹائرڈ ملازمین میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمی کراچی کے ریٹائرڈ ملازمین کا ایک دیرینہ مسئلہ، جو عرصہ دراز سے حل طلب تھا، اسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلط پالیسیوں کے باعث ریٹائرڈ ملازمین اپنے جائز حقوق سے محروم رہے تاہم موجودہ منتخب قیادت نے اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تین سال قبل موجودہ انتظامیہ نے بلدیہ عظمی کراچی کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو پنشن کی مد میں تقریبا 11 ارب روپے کے واجبات ادا کیے جانے تھے، بہتر مالی منصوبہ بندی اور دستیاب وسائل کی موثر سرمایہ کاری کے ذریعے 2013 سے 2019 تک ریٹائر ہونے والے ملازمین کے واجبات مرحلہ وار ادا کئے جا رہے ہیں جبکہ آج 31 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی تقریبا 6.2 ارب روپے کے بقایاجات ادا کیے جانے ہیں اور اس سلسلے میں کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمی کراچی اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو باقاعدگی سے پنشن ادا کر رہی ہے اور پنشن کی موجودہ ادائیگیوں پر ادارے کا ایک روپے کا بھی بقایا نہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ اس کامیابی کا کریڈٹ پوری سٹی کونسل، ڈپٹی میئر، پارلیمانی لیڈر، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر، پیپلز لیبر بیورو اور ان تمام افسران و ملازمین کو جاتا ہے جنہوں نے اس عمل میں بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے ساتھ ایک طویل عرصے سے زیر التوا مالی تنازع حل ہونے کے بعد تقریبا 1.4 ارب روپے بلدیہ عظمی کراچی کے اکائونٹ میں منتقل ہوں گے، جو اسی ماہ موصول ہونے کی توقع ہے اور یہ رقم بھی ملازمین اور شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ شفافیت کے فروغ کے لیے سیپ (SAP) سسٹم نافذ کیا گیا ہے جس کے ذریعے جعلی بھرتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی، کے ڈی اے اور دیگر اداروں میں دوہری ملازمتوں کے متعدد کیسز سامنے آئے جبکہ جعلی پنشن وصول کرنے والے تقریبا 1200 افراد کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعے 57 ملین روپے غیرقانونی طور پر وصول کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک ایک پائی مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ادا کی جائے گی تاکہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب پنشنرز کو کمپیوٹرائزڈ کے ایم سی پنشن کارڈ بھی جاری کیے جائیں گے جس سے انہیں پنشن کے حصول میں مزید سہولت میسر آئے گی۔میئر کراچی نے کہا کہ موجودہ بلدیاتی قیادت نے شہر میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں جن میں شاہراہ بھٹو، کورنگی کاز وے برج، سینیٹر تاج حیدر برج، کریم آباد انڈر پاس، بھینس کالونی تا ابراہیم حیدری فلائی اوور اور عظیم پورہ فلائی اوور شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب مائی کولاچی روڈ پر ریلوے کراسنگ فلائی اوور اور گلشن اقبال میں ڈسکو بیکری کے مقام پر ایک نئے فلائی اوور کی تعمیر بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ربیع الاول سے قبل مساجد کے اطراف ترقیاتی اور تزئین و آرائش کے کاموں کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح یا تکمیل کے موقع پر ہی پریس کانفرنس کرتے ہیں کیونکہ ان کی سیاست خدمت پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام کام کسی ایک فرد نے نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب قیادت اور سٹی کونسل کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہوئے ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر، سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، پیپلزلیبر بیورو کراچی ڈویژن کے صدر اسلم سموں اور دیگر بھی موجود تھے۔







