قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس، لائیو سٹاک، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات وضع کرنے کی ہدایت
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس، لائیو سٹاک، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات وضع کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے لائیو سٹاک، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی سہولت کاری اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے شعبوں میں مرکوز اقدامات سے پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی میں بہتری اور لائیو سٹاک کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔کمیٹی کا 30 واں اجلاس منگل کو چیئرمین سید حسین طارق کی زیر صدارت نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں لائیو سٹاک شعبے خصوصاً مویشی، پولٹری اور ڈیری سیکٹر کو درپیش اہم مسائل اور ان کے موثر و پائیدار حل کا جائزہ لیا گیا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جاری پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے لائیو سٹاک شعبے کو درپیش اہم چیلنجز بالخصوص مویشی، پولٹری اور ڈیری کے شعبوں اور وزیراعظم آفس اسلام آباد میں منعقدہ ’’پاکستان کے لائیو سٹاک کے استعداد کار سے استفادہ‘‘ کے موضوع پر قومی مکالمے کی روشنی میں ان کے موثر اور پائیدار حل کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا۔
لائیو سٹاک شعبے کے نمائندوں نے کمیٹی کو شعبے کو درپیش اہم رکاوٹوں سے آگاہ کیا جن میں زیادہ پیداواری اور ان پٹ لاگت، ٹیکسز اور بھاری ڈیوٹیز، محدود سبسڈیز اور نرم قرضوں تک رسائی، مقامی ان پٹس کا کم استعمال، ناکافی میکانائزیشن اور مویشیوں کی نسل میں بہتری سے متعلق چیلنجز شامل ہیں۔ کمیٹی نے سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ہدایت کی کہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام سے مشاورت کے ذریعے ان مسائل کا جائزہ لیا جائے اور پیداواری لاگت کم کرنے، سستی فنانسنگ تک رسائی بہتر بنانے، مقامی ان پٹس کے استعمال کو فروغ دینے، میکانائزیشن میں سہولت فراہم کرنے اور نسلوں میں بہتری کے پروگراموں کو مضبوط بنانے کیلئے مناسب اقدامات کیے جائیں۔نمائندوں نے کمیٹی کو ضروری ویٹرنری ادویات، مشینری، آلات اور ٹیکنالوجیز کی دستیابی اور درآمد سے متعلق مشکلات سے بھی آگاہ کیا، بالخصوص ان اشیاء کے حوالے سے جو مقامی طور پر مناسب مقدار میں دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی معیارات اور ایس او پیز کے مطابق ویٹرنری ادویات کیلئے موثر ریگولیٹری فریم ورک اور اینٹی بائیوٹکس کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت کی بھی نشاندہی کی۔
کمیٹی نے سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ہدایت کی کہ ضروری درآمدات میں مناسب سہولت کاری، ویٹرنری ادویات کے ضابطہ کار کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے محتاط استعمال کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کیا جائے۔برآمدات کے حوالے سے نمائندوں نے درآمدکنندہ ممالک کی جانب سے عائد تجارتی رکاوٹوں، منفی فہرستوں، درآمدی پابندیوں اور دیگر پابندیوں، مارکیٹوں کی ناکافی شناخت، بین الاقوامی سطح پر محدود رسائی اور مسابقتی صلاحیت کی کمی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے برآمدی معیار کی پیداوار، بین الاقوامی معیارات کی پاسداری، زیادہ ویلیو ایڈیشن اور بین الاقوامی منڈیوں تک بہتر رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے سیکریٹری وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ متعلقہ حکام اور تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی رکاوٹوں کو دور یا کم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں، ممکنہ بین الاقوامی منڈیوں کی نشاندہی کی جائے اور پاکستان کی مسابقتی صلاحیت اور لائیو سٹاک، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات وضع کیے جائیں۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد لائیو سٹاک بنیادی طور پر صوبائی معاملہ ہے جس کیلئے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان موثر رابطہ ضروری ہے۔ کمیٹی نے سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ہدایت کی کہ لائیو سٹاک شعبے کی ترقی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ یقینی بنایا جائے جبکہ برآمدات اور تجارت سے متعلق امور وزارت تجارت کے دائرہ کار میں سیکریٹری وزارت تجارت کی جانب سے آگے بڑھائے جائیں۔تجارتی سہولت کاری کو بہتر بنانے کیلئے نمائندوں نے ون ونڈو آپریشنز اور ایکسپورٹ فسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام کے ساتھ ساتھ سرکاری، ریگولیٹری اور ضابطہ جاتی کارروائیوں کو تیز کرنے کی تجویز پیش کی۔ کمیٹی نے سیکریٹری وزارت تجارت کو ایسے طریقہ کار کے قابل عمل ہونے کا جائزہ لینے اور برآمدات سے متعلق کارروائیوں کو آسان اور تیز کرنے کیلئے مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے سیکریٹری وزارت تجارت کو یہ بھی ہدایت کی کہ تجارتی میلوں، نمائشوں، تجارتی وفود اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط کے ذریعے پاکستان کی بین الاقوامی منڈیوں میں رسائی بڑھائی جائے اور لائیو سٹاک، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کیلئے نئی منڈیوں اور خریداروں کی نشاندہی پر توجہ دی جائے۔کمیٹی نے لائیو سٹاک شعبے کے نمائندوں کی جانب سے سامنے لائے گئے چیلنجز سے نمٹنے اور پاکستان کی ایک مسابقتی اور برآمدات پر مبنی لائیو سٹاک پیدا کرنے والے ملک کے طور پر صلاحیت سے استفادہ کرنے کیلئے مربوط، عملی اور مقررہ مدت پر مبنی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پیداوار، جانوروں کی صحت، نسلوں میں بہتری، میکانائزیشن، ویلیو ایڈیشن، تجارتی سہولت کاری اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے شعبوں میں مرکوز اقدامات سے پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی میں بہتری اور لائیو سٹاک کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔اجلاس میں معزز اراکین وسیم قادر، عبدالقادر خان، سید جاوید علی شاہ جیلانی، سید ابرار علی شاہ، ذوالفقار علی اور سنجے پروانی نے شرکت کی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارت تجارت کے سینئر حکام کے علاوہ لائیو سٹاک شعبے کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔








