اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے مالی سال 2027-2026 کے لیے کابینہ ڈویژن کے 164.578 ارب روپے مالیت کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی سفارش کر دی ہے۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی و ترقی کو ہدایت کی ہے کہ کابینہ ڈویژن کو مطلوبہ فنڈز بروقت فراہم کیے جائیں تاکہ منصوبوں کی لاگت میں اضافے اور …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے کابینہ ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے مالی سال 2027-2026 کے لیے کابینہ ڈویژن کے 164.578 ارب روپے مالیت کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی سفارش کر دی ہے۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی و ترقی کو ہدایت کی ہے کہ کابینہ ڈویژن کو مطلوبہ فنڈز بروقت فراہم کیے جائیں تاکہ منصوبوں کی لاگت میں اضافے اور عوامی فنڈز کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو اسلام آباد کلب میں چیئرمین ملک ابرار احمد (ایم این اے) کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تجویز کردہ 164.578 ارب روپے میں سے82 ارب روپے (منظور شدہ) پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول، اسلام آباد ٹیکنوپولیس کی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی، اورایوی ایشن سکواڈرن کی سکیورٹی و کارکردگی میں بہتری کے لیے مختص ہیں۔82.57 ارب روپے نیشنل آرکائیوز کی عمارت کی اپ گریڈیشن اور آرکائیول مواد کی ڈیجیٹلائزیشن و بحالی کے قومی پروگرام کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔کمیٹی نے ان تجاویز کی متفقہ منظوری دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کو متعلقہ فورمز سے منظور کروا کر مزید کارروائی کے لیے پلاننگ ڈویژن کو جمع کرائیں۔
قبل ازیں، اسلام آباد کلب انتظامیہ نے کمیٹی کو کلب کے انتظام و انصرام اور طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کلب اسلام آباد اور راولپنڈی کے رہائشی ارکان کو مختلف کیٹیگریز میں سہولیات فراہم کرتا ہے۔ محدود نشستوں کی وجہ سے کلب کسی بھی درخواست کو بغیر وجہ بتائے قبول یا مسترد کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سیکرٹری اسلام آباد کلب نے مالیاتی انتظام، ٹیکسز کی ادائیگی اور مقامی قوانین کی پاسداری پر بھی روشنی ڈالی۔کمیٹی نے کلب انتظامیہ کی خدمات کو سراہا اور مشورہ دیا کہ دیگر کلبوں کو بھی اپنے الحاق کے دائرہ کار میں لانے پر کام کیا جائے۔
اس کے علاوہ، کمیٹی نے آؤٹ سورسڈ سروسز کے ذریعے کام کرنے والے ملازمین کو حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنانے کی سفارش کی۔کمیٹی نے سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ "سول سرونٹ (دوہری اور غیر ملکی شہریت کا افشا اور ممانعت) رولز” کی تشکیل میں تیزی لائی جائے۔ بینوولنٹ اور گروپ انشورنس فنڈز کو ہدایت کی گئی کہ ایکچوریل اسٹڈی کی جلد تکمیل کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل تیز کیا جائے۔
اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب، محترمہ نزہت صادق، محترمہ فرح ناز اکبر، نیلسن عظیم، سید رفیع اللہ، محترمہ رانا انصار، محترمہ شاہدہ بیگم، سیکریٹری کابینہ ڈویژن اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔








