اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):اردو کے قادرُ الکلام شاعر،افسانہ نگار اور قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کا یوم پیدائش بدھ 14 جنوری کو منایا گیا۔ حفیظ جالندھری کی پہچان قومی ترانا اور ملی شاعری ہے لیکن وہ رومانوی کلام اور گیت نگاری کے حوالہ سے بھی شہرت کے حامل ہیں۔ وہ 14 جنوری 1900ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ ابوالاثر حفیظ جالندھری کی منظوم تصنیف شاہنامہ اسلام …
قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کا یوم پیدائش منایا گیا
اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):اردو کے قادرُ الکلام شاعر،افسانہ نگار اور قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کا یوم پیدائش بدھ 14 جنوری کو منایا گیا۔ حفیظ جالندھری کی پہچان قومی ترانا اور ملی شاعری ہے لیکن وہ رومانوی کلام اور گیت نگاری کے حوالہ سے بھی شہرت کے حامل ہیں۔ وہ 14 جنوری 1900ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ ابوالاثر حفیظ جالندھری کی منظوم تصنیف شاہنامہ اسلام پر انہیں فردوسی اسلام کے خطاب سے نوازا گیا ۔شاہنامہ اسلام ان کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا جبکہ دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے جس کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے 4 اگست 1954ء کو ان کے تحریر کردہ ترانہ کو بطور قومی ترانہ منظور کیا تھا۔ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت بھی لکھے۔حفیظ جالندھری کا گیت ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ بھی بہت مشہور ہوا۔ انہوں نے غزلیں بھی لکھیں۔ابوالاثر حفیظ جالندھری کو تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال پاکستان سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔
حفیظ جالندھری 82 سال کی عمر میں 21 دسمبر 1982ء کو لاہور میں اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔ ابوالاثر حفیظ جالندھری کی سالگرہ کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں اور ان کے مداحوں کی جانب سے انہیں بھر پور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔









