اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت منعقدہ 38 ویں بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرنس نے طویل مشاورت کے بعد نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ایکشن پلان اور دیگر تعلیمی منصوبوں کی متفقہ منظوری دیدی ہے ۔ وزراء کانفرنس میں وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر ، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری تعلیم فرح ناز اکبر، سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب، بلوچستان …
قومی تعلیمی یکجہتی کا تاریخی سنگ میل، 38 ویں بین الصوبائی وزراء کانفرنس میں ’’نیشنل ایجوکیشن ایکشن پلان‘‘ کی متفقہ منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت منعقدہ 38 ویں بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرنس نے طویل مشاورت کے بعد نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ایکشن پلان اور دیگر تعلیمی منصوبوں کی متفقہ منظوری دیدی ہے ۔ وزراء کانفرنس میں وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر ، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری تعلیم فرح ناز اکبر، سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب، بلوچستان کی وزیر راحیلہ حمیددرانی ، سندھ کے وزیر محمد اسماعیل راہو ، گلگت بلتستان سمیت صوبوں کے سیکرٹریز تعلیم ،پنجاب کے وزیر تعلیم رانا اقبال سکندر اور کے پی کے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان(ویڈیو لنک )، چیئرمین فیڈرل بورڈ اکرم علی ملک ، آئی بی سی سی کے ای ڈی غلام علی ملہی ، قومی رحمتہ رحمتہ للعالمین اتھارٹی کے چیئرمین خورشید احمد ندیم ،ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا ،ڈائریکٹر این سی سی تبسم ناز کے علاوہ وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے حکام شریک تھے ۔
اجلاس کے دوران آئوٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں واپس لانے کے لیے وفاق کی سطح پر ایک خصوصی’’چیلنج فنڈ‘‘ کے حوالے سے بھی شرکا کو آگاہ کیا گیا جس کے ذریعے وفاقی حکومت تمام صوبوں کو اس قومی مسئلے سے نمٹنے کے لیے معاونت فراہم کرے گی۔ اس تاریخی موقع پر تمام وفاقی اکائیوں نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ، آئوٹ آف سکول بچوں کی واپسی اور عالمی معیار کے امتحانی و نصابی اصلاحات پر مکمل اتفاق رائے کا اظہار کیا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے ہر بچے کو یکساں اور معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر نے کانفرنس کو بتایا کہ صوبے میں 1.8 ملین گھوسٹ بچوں کا خاتمہ اور 10 ہزار سکولوں کی آئوٹ سورسنگ کی گئی ہے۔سندھ کے وزیر محمد اسماعیل راہو نے بتایا کہ 93 ہزار اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی اور سکولوں کی اپ گریڈیشن مکمل ہو چکی ہے۔ بلوچستان کی وزیر راحیلہ حمید درانی نے بتایا کہ صوبے نے 3200 بند سکول بحال کر کے 1 لاکھ 40 ہزار بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کی وزارت تعلیم نے 10 ہزار اساتذہ کی بھرتی اور 1500 سکولوں کی آئوٹ سورسنگ کے ساتھ انرولمنٹ میں 6 فیصد اضافے کی تصدیق کی۔
آزاد کشمیر کے وزیر ملک ظفر نے بتایا کہ ایل او سی کے چیلنجز کے باوجود 10 ہزار نئے کلاس رومز کے لئے 7 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ گلگت بلتستان نے آئوٹ آف سکول بچوں کے لئے خصوصی فنڈ کے قیام، اساتذہ کی بھرتی اور ’’سکول مل پروگرام‘‘ کو تمام اضلاع تک پھیلانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے کہا کہ ان تمام منصوبوں کی حتمی توثیق وزیراعظم کی زیر صدارت ’’ایجوکیشن ایمرجنسی ٹاسک فورس‘‘ کرے گی۔ انہوں نے میٹرک اور انٹر ٹیک پروگرام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے اور فیڈرل بورڈ کے اصلاحیاتی پروگرام سے تمام صوبوں کو استفادہ حاصل کرنے کی دعوت دی ۔
ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر شاہد سرویہ نے بریفنگ دی کہ ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ چھ ماہ کی محنت اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے تاکہ 25 ملین آئوٹ آف سکول بچوں کے چیلنج سے نمٹا جا سکے۔38ویں بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرنس کے شرکا نے ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا کی جانب سے پیش کیے گئے نیشنل ایجوکیشن ایکشن پلان ، ڈی جی ایف ای ڈی سید جنید اخلاق کی جانب سے پیش کر دہ ٹیکنیکل ایجوکیشن اقدامات ، وزارت تعلیم کی جانب سے پیش کردہ نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ٹاسک فورس کے ٹی او آرز ، پی آئی ای کی جانب سے پیش کردہ ڈیٹا رجیم ، چیئرمین فیڈرل بورڈ کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی پروگرام ، این سی سی ڈائریکٹر تبسم نا ز کی جانب سے پیش کردہ نصاب کو جدید خطور پر استوار کرنے ،قومی رحمتہ اللعالمین اتھارٹی کے چیئرمین خورشید احمد ندیم کی جانب سے پیش کردہ دوران تعلیم کردار سازی کی حکمت عملی اور ا یگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی کی جانب سے پیش کردہ ایجنڈے کو متفق طور پر منظوری بھی دی۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے 38 ویں بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر تمام صوبائی وزراء، سیکرٹریز اور سٹیک ہولڈرزکو مبارکبادپیش کی۔ انہوں نے اس کانفرنس کوقومی ہم آہنگی اور مثالی اشتراک کا سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام وفاقی اکائیوں کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا تعلیمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہمارے پختہ عزم کی علامت ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ہم آہنگی کو برقرار ررکھتے ہوئے ہم نے آگے بڑھنا ہے تا کہ تعلیم کے بدلتے ہوئے عالمی معیار کے مطابق اپنے ملک کو ہم آہنگ کیا جاسکے ۔انہوں نے اعادہ کیا کہ غیر رسمی تعلیم ،دور دراز علاقوں تک رسائی ، مدارس کے طلباء کو قومی دھارے میں لانا ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم سب مل کر مشترکہ کوششوں سے وسائل کی کمی کو دور کر کے قومی تعلیمی بیانیے کو حقیقت کا روپ دیں گے ۔








