اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) نیوز ایجنسیز کی عالمی کانفرنس میں معروف صحافیوں نے قرار دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندی لگانا ممکن نہیں تاہم اس کے مثبت استعمال کویقینی بنانے کیلئے نصاب میں مضامین شامل کرنے، ریاست کی سطح پر نگران ادارے کا کردار اور عالمی سطح پرایک فورم ہونا چاہئے ، سوشل میڈیا جہاں منفی مقاصد اور پروپیگنڈے کیلئے استعمال ہوتا ہے وہاں اس …
قومی خبر رساں ادارے اے پی پی کے زیر اہتمام نیوز ایجنسیز کی عالمی کانفرنس سے معروف صحافیوں کا خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) نیوز ایجنسیز کی عالمی کانفرنس میں معروف صحافیوں نے قرار دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندی لگانا ممکن نہیں تاہم اس کے مثبت استعمال کویقینی بنانے کیلئے نصاب میں مضامین شامل کرنے، ریاست کی سطح پر نگران ادارے کا کردار اور عالمی سطح پرایک فورم ہونا چاہئے ، سوشل میڈیا جہاں منفی مقاصد اور پروپیگنڈے کیلئے استعمال ہوتا ہے وہاں اس کا اطلاعات کیلئے استعمال بھی اہم جزو ہے۔اتوارکو ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان(اے پی پی) کے زیراہتمام نیوز ایجنسیز کی دوروزہ عالمی کانفرنس کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیاءالدین نے کہا کہ سوشل میڈیا کا استعمال جہاں مثبت مقاصد کیلئے ہوتا ہے وہاں پر یہ پروپیگنڈے کےلئے بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ چیزوں کو درست انداز میں پیش نہیں کیا جاتا، اس کے ذریعہ غلط اطلاعات بھی فراہم کی جاتی ہیں، ایک ترقی یافتہ ملک ہونے کے باوجود2016ءکے امریکی صدارتی انتخابات میں اس کا استعمال ایک مثال ہے۔ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز کے چیئر مین ڈاکٹر ظفراقبال نے کہا کہ سوشل میڈیا سے بعض اوقات اہم اطلاعات بھی ملتی ہیں تاہم اس کا ایک تاریک پہلو بھی ہے جس پر سب کوتشویش ہے، یہ پروپیگنڈے کا اہم ذریعہ بن چکا ہے اس کے ذریعہ تہذیبوں ، معاشروں اور انفرادی طور پر کسی کے خلاف بھی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، یہ میڈیا گوکہ مفت اطلاعات کا ایک ذریعہ ہے تاہم مرچ مصالحہ لگانے سے اس کا منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کےلئے نصاب متعارف کرایا جانا چاہئے، نیوز ایجنسیاں اسے مارکیٹنگ کے طور پر استعمال کریں۔








