اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):قومی خدمت اور پیشہ ورانہ مہارت کی ایک درخشاں مثال کے طور پر نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) نے خنجراب پاس کے ذریعے مسلسل دوسرے سال ہر موسم میں تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ کر چین اور وسطی ایشیا کے ساتھ بلا تعطل تجارت کے عزم کی توثیق کی ہے۔این ایل سی حکام کے مطابق سخت موسمی حالات اور وقفے وقفے سے برفباری کے باوجود این …
قومی خدمت کی روشن مثال،این ایل سی ڈرائی پورٹ سوست نے مسلسل دوسرے سال بلا تعطل تجارتی سرگرمیاں یقینی بنائی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):قومی خدمت اور پیشہ ورانہ مہارت کی ایک درخشاں مثال کے طور پر نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) نے خنجراب پاس کے ذریعے مسلسل دوسرے سال ہر موسم میں تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ کر چین اور وسطی ایشیا کے ساتھ بلا تعطل تجارت کے عزم کی توثیق کی ہے۔این ایل سی حکام کے مطابق سخت موسمی حالات اور وقفے وقفے سے برفباری کے باوجود این ایل سی ڈرائی پورٹ سوست مکمل طور پر فعال رہا، جس کے باعث پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کا تسلسل برقرار رہا۔ یہ کامیابی دنیا کے مشکل ترین جغرافیائی خطوں میں این ایل سی کی عملی مضبوطی اور انتظامی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
تجارت کے ہموار بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے این ایل سی نے جدید انفراسٹرکچر میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے، جس میں جدید اسکینرز کی تنصیب، وی بریج، وسیع گوداموں اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ان سہولیات کے نتیجے میں موسمِ سرما کے عروج کے مہینوں میں بھی تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا۔ صرف دسمبر کے مہینے میں ڈرائی پورٹ سوست کے ذریعے 12 ہزار میٹرک ٹن درآمدی و برآمدی کارگو ہینڈل کیا گیا۔ اسی طرح جنوری 2026 کے پہلے دو ہفتوں کے دوران تقریباً 11 ہزار میٹرک ٹن درآمدی و برآمدی کارگو کے ساتھ ساتھ چین سے آنے والے 132 خالی کنٹینرز کی پروسیسنگ بھی کی گئی۔
علاقائی تجارتی انضمام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے این ایل سی نے چینی فریٹ آپریٹرز کے اشتراک سے ایک مشترکہ لاجسٹکس کمپنی قائم کی ہے، جس کا مقصد چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ فارورڈ ٹرانزٹ ٹریڈ کو سہل بنانا ہے۔ اس اقدام سے سرحد پار لاجسٹکس میں بہتری آئی ہے اور پورے خطے میں سپلائی چین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔تجارت کے فروغ کے علاوہ، این ایل سی ڈرائی پورٹ سوست گلگت بلتستان کے عوام کے لیے پائیدار روزگار کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، جس سے مقامی معیشت کو تقویت ملی ہے اور سماجی و معاشی ترقی کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ ڈرائی پورٹ کی بلا تعطل سرگرمیوں نے نہ صرف پاکستان اور چین کے تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے بلکہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کے ایک نئے دور کا آغاز بھی کیا ہے۔








