اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ قومی خزانے کا استعمال بہترین بین الاقوامی مالیاتی قواعد اور ضوابط کے مطابق کیا جائے اور قومی خزانے کے استعمال میں احتیاط اور کفایت شعاری کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹل عوامی ملکیت ہے اور اس پر ہر پیسہ پائیداری کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر خرچ کیا جائے اور …
قومی خزانے کا استعمال بہترین بین الاقوامی مالیاتی قواعد اور ضوابط کے مطابق کیا جائے ، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ قومی خزانے کا استعمال بہترین بین الاقوامی مالیاتی قواعد اور ضوابط کے مطابق کیا جائے اور قومی خزانے کے استعمال میں احتیاط اور کفایت شعاری کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹل عوامی ملکیت ہے اور اس پر ہر پیسہ پائیداری کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر خرچ کیا جائے اور مرمت اور دیگر کاموں میں استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نا کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤس اینڈ لائبریری کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ڈپٹی اسپیکر نے پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹل میں مختلف امور اور منصوبوں کی نگرانی کے لئے ایم این اے شیر علی ارباب کی کنوینر شپ میں چار رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی بحالی، صفائی ستھرائی، مرمت اور دیگر ذیلی معاملات کی نگرانی کرے گی۔ اس ذیلی کمیٹی میں ارباب شیر علی کے علاؤہ ممبران قومی اسمبلی محترمہ عالیہ کامران، محترمہ منور بی بی بلوچ اور محترمہ نصیبہ چنہ شامل ہوں گی۔ ڈپٹی اسپیکر نے پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹل کے معاملات میں سی ڈی اے کے غیر پیشہ ورانہ مہارت پر برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے ممبروں کا صفائی ستھرائی کے معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹل میں مرمتی کے کاموں میں غیر معیاری مواد استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کاموں بار بار کیا جاتا ہے جس پر عوام کا پیسہ ضائع ہو رہا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کمیٹی ممبران کے شدید تحفظات پر سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ ایم این اے ہاسٹل کی بحالی اور مرمت کے لئے بجٹ مختص کرے۔ کمیٹی ممبران نے ڈپٹی اسپیکر کو بتایا کہ ایم این اے ہاسٹل کی حالت انتہائی خستہ ہے اور رہائش کے قابل نہیں ہے۔ کمیٹی نے پارلیمنٹ لاجز کی لفٹوں اور صفائی ستھرائی اور ٹینڈروں کو تبدیل کرنے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر ٹینڈرز کے عمل کی براہ راست نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بہترین معیار کو یقینی بنایا جاسکے۔ کمیٹی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ صرف ان فرموں کو ٹینڈرز کے لئے بلایا جائے جو اس شعبے میں تجربہ اور مہارت رکھتے ہوں۔ کمیٹی ممبران نے پارلیمنٹ لاجز کی چھتوں کے سیپج کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں فوری اقدامات اٹھائے۔ کمیٹی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹل میں فیملی سویٹ کی مرمت کے کاموں کے لئے ایک مخصوص کرائیٹریا مختص کیا جائے۔ کمیٹی اجلاس میں ممبران قومی اسمبلی شیر علی ارباب، محترمہ نصیبہ چنہ، محترمہ عالیہ کامران، محترمہ منوورا بی بی بلوچ، محترمہ کیشور زہرا، محترمہ روبینہ عرفان، مرتضیٰ جاوید عباسی اور سی ڈی اے، وزارت داخلہ اور قومی اسمبلی کے اعلی افسران نے شرکت کی۔








