قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کا نیکٹا کے زیر اہتمام بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔4 اپریل(اے پی پی ) قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے کر کامیابیاں حاصل کیں ہیں، پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگانے کی بجائے عالمی برادری کو ان قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے، پاکستان، افغانستان کی سالمیت اور علاقائی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، سوویت یونین کے خاتمے کے …

اسلام آباد ۔4 اپریل(اے پی پی ) قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے کر کامیابیاں حاصل کیں ہیں، پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگانے کی بجائے عالمی برادری کو ان قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے، پاکستان، افغانستان کی سالمیت اور علاقائی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکا اور عالمی برادری یہاں سے چلی گئی اور ہمیں بعد کے حالات سے نمٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا، بلوچستان اور کراچی میں الجھایا گیا، ہم نے فاٹا سمیت ہر جگہ مقابلہ کیا، پاک افغان بارڈر پر سب سے بلند مقام 24 ہزار فٹ ہے، دنیا کے اس دشوار ترین علاقے میں عالمی برادری آئے اور لڑ کر دکھائے۔وہ بدھ کو یہاں نیکٹا کے زیر اہتمام بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر ) ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ امریکا نے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا، جس پر طالبان نے امریکا اور عالمی برادری کو غاصب قرار دیا۔ آج بھی طالبان اس جنگ کو اپنے وطن کی آزادی کی جنگ کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا ہم پر طالبان کی حمایت اور طالبان ہم پر امریکا کی حمایت کا الزام عائد کر رہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر پاکستان امریکا کا اتحادی نہ بنتا تو کیا آج افغانستان آزاد ہوتا۔ اگر سوویت یونین قائم رہتا تو کیا دیوار برلن گرتی۔کیا 14 ممالک آزادی حاصل کرتے۔ کیا امریکا سوویت یونین کی موجودگی میں سپر پاور بنتا۔انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکا اور عالمی برادری یہاں سے چلی گئی اور ہمیں بعد کے حالات سے نمٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا۔