اسلام آباد۔9مارچ (اے پی پی):پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) انجم نثار گروپ کے رکن و لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی ممبرمدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کل ترسیلات زر میں خلیجی ممالک کا حصہ تقریباً 50 فیصد سے زائد ہے اور خلیج میں حالیہ کشیدگی کی وجہ سے اس میں کمی کے خدشات ہیں۔ پیر کو اپنے بیان میں انہوں نے …
قومی معیشت کو مشرق وسطی کی جنگ کے منفی اثرات، معاشی، تزویراتی مفادات کے تحفظ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام کرنے کی ضرورت ہے، مدثر مسعود

مزید خبریں
اسلام آباد۔9مارچ (اے پی پی):پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) انجم نثار گروپ کے رکن و لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی ممبرمدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کل ترسیلات زر میں خلیجی ممالک کا حصہ تقریباً 50 فیصد سے زائد ہے اور خلیج میں حالیہ کشیدگی کی وجہ سے اس میں کمی کے خدشات ہیں۔ پیر کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی کی جنگ کے پاکستان کی معیشت پر منفی اور گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں کمی سے پاکستان جیسے ممالک میں ادائیگیوں کے توازن کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کا دارومدار بڑی حد تک خلیجی ریاستوں ترسیلات زر کے محصولات پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کے خاتمہ کے لئے چین سمیت دیگر ممالک کو ساتھ لے کر سفارتکاری میں غیر معمولی تیزی لائے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بھی پاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہو ں گے۔ انہوں نے اس خدشہ کا اظہار بھی کیا کہ اگر یہ صورتحال طویل ہوئی تو توانائی کے مسائل سے پاکستان کی برآمدی مسابقت متاثر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ جنگ کا جلد از جلد خاتمہ ہی خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیا کی معیشتوں سمیت قومی معیشت کیلئے بھی بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے چین سمیت دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے تاکہ اس حوالہ سے ایک نئی حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔








