قومی نصاب کونسل نے جماعت اول تا بارہویں تک مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا نصاب نافذ العمل کر دیا

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):قومی نصاب کونسل(این سی سی)نے جماعت اول تا بارہویں تک مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا نصاب نافذ العمل کر دیا ہے۔یہ نصاب طلبہ کو کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجیز ،جدید نظام ،ربوٹکس ڈیزائن کا ذمہ دارنہ استعمال اور حقیقی مسائل کے حل کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ پاکستان کے قومی تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کی شمولیت مستقبل سے ہم آہنگ اور ٹیکنالوجی پر …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):قومی نصاب کونسل(این سی سی)نے جماعت اول تا بارہویں تک مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا نصاب نافذ العمل کر دیا ہے۔یہ نصاب طلبہ کو کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجیز ،جدید نظام ،ربوٹکس ڈیزائن کا ذمہ دارنہ استعمال اور حقیقی مسائل کے حل کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

پاکستان کے قومی تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کی شمولیت مستقبل سے ہم آہنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔سیکرٹری وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کی ہدایت پر نیشنل کریکولم کونسل (این سی سی) وِنگ نے جماعت اوّل تا بارہویں کے لئے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا نصاب حتمی شکل دے کر باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ یہ نصاب طلبہ کو کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجی، جدید نظام، روبوٹکس ڈیزائن کو ذمہ دارانہ استعمال اور حقیقی مسائل کے حل کیلئے تیا ر کیا گیا ہے۔

یہ نصاب ترقی کے مختلف مراحل کو مدِنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیاہے، عملی طریقہ کار سیکھنے پر زور دیتا ہے جو قومی ترقیاتی ترجیحات اور بین الاقوامی طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہے۔ اس کا مقصد طلبہ میں جدت، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہے اور انہیں مستقبل کی معیشت اور معاشرے کو تشکیل دینے والی جدید ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ کرنا ہے ۔

نوٹیفکیشن کے بعد یہ نصاب متعلقہ صوبائی محکمہ تعلیم، نصاب ساز اداروں، اساتذہ کی تربیت کے اداروں اور امتحانی بورڈز کو فراہم کیا جائے گا تاکہ یہ نصاب اساتذہ کی صلاحیت کو مزید نکھارے۔یہ اقدام وزارت کی اس وابستگی کی عکاسی کرتا ہے کہ سٹیم تعلیم کو مضبوط بنایا جائے، ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دیا جائے اور طلبہ کو ایسی مہارتیں فراہم کی جائیں جو انہیں نہ صرف آج کے چیلنجز بلکہ کل کے مواقع کے لئے بھی تیار کریں۔