راولپنڈی۔23اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کے عبوری ریڈ بال ہیڈ کوچ اظہر محمود نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں تسلسل اور بہتری لانے کے لیے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلنے کی اشد ضرورت ہے، جب تک کھلاڑی مسلسل طویل فارمیٹ میں نہیں کھیلیں گے وہ دباؤ برداشت کرنے اور صورتحال کے مطابق کھیلنے کا ہنر نہیں سیکھ سکیں گے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے …
قومی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں تسلسل اور بہتری لانے کے لیے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلنے کی اشد ضرورت ہے،پاکستان کے عبوری ریڈ بال ہیڈ کوچ اظہر محمود

مزید خبریں
راولپنڈی۔23اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کے عبوری ریڈ بال ہیڈ کوچ اظہر محمود نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں تسلسل اور بہتری لانے کے لیے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلنے کی اشد ضرورت ہے، جب تک کھلاڑی مسلسل طویل فارمیٹ میں نہیں کھیلیں گے وہ دباؤ برداشت کرنے اور صورتحال کے مطابق کھیلنے کا ہنر نہیں سیکھ سکیں گے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں 8 وکٹوں سے شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اظہر محمود نے کہا کہ مستقل بنیادوں پر ٹیسٹ میچز نہ کھیلنے کی وجہ سے کھلاڑیوں کو تسلسل برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال قومی ٹیم نے صرف 4 ٹیسٹ میچز کھیلے جبکہ آئندہ سال 11 میچز شیڈول ہیں، جب ٹیم زیادہ میچز کھیلے گی تو کھلاڑیوں کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور دباؤ کے لمحات میں بہتر کھیل پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ ہیڈ کوچ نے پچز کے معیار پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہاں اسپنرز کو مدد ملی، بیٹرز کے لیے رنز کے مواقع بھی موجود تھے اور فاسٹ باؤلرز کے لیے بھی سپورٹ تھی۔
اگر ہم بین الاقوامی سطح پر ایسی پچز چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اسی نوعیت کی وکٹیں تیار کی جائیں تاکہ کھلاڑی ان حالات میں کھیلنے کے عادی ہو سکیں۔ اظہر محمود نے ڈومیسٹک کرکٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو کھلاڑی باقاعدگی سے مقامی کرکٹ کھیلتے ہیں وہ مشکل حالات کا بہتر مقابلہ کرنا سیکھتے ہیں۔ اگر آپ صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں اور خراب فارم میں چلے جائیں تو سیکھنے کا موقع نہیں ملتا، اس لیے ڈومیسٹک کرکٹ ہی بہترین حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میچ میں سب سے بڑا نقصان 93 رنز کے مجموعے پر 22 وکٹوں کا گرنا تھا جو کسی بھی سطح پر قابل قبول نہیں۔ حالیہ تربیتی کیمپس میں کھلاڑیوں کو یہی پیغام دیا گیا کہ اگر ٹاپ آرڈر 250 سے 260 رنز بناتا ہے تو لوئر آرڈر کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، یہی دونوں ٹیموں کے درمیان اصل فرق تھا۔ ہیڈ کوچ نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنے مضبوط شاٹس کے بارے میں واضح علم ہونا چاہیے، جنوبی افریقن آل راؤنڈر متھوسامی کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے سویپ اور ریورس سویپ کے ذریعے رنز بنائے جبکہ ہمارے بیٹرز نے مخالف باؤلرز کو چیلنج کرنے کے بجائے زیادہ دفاعی انداز اپنایا۔
اظہر محمود نے مزید کہا کہ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ وہ موقع تھا جب پہلی اننگز میں 300 سے زائد رنز بنانے کے باوجود ٹیم نے اپنی آخری پانچ وکٹیں بہت جلد گنوا دیں، ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ متھوسامی اور کاگیسو ربادا نے شاندار بیٹنگ کی جبکہ ہم نے ان کی اننگز کے دوران پانچ آسان کیچز بھی چھوڑے جو میچ کے نتیجے پر براہ راست اثر انداز ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈومیسٹک سرکٹ میں بھی ایسی متوازن وکٹیں تیار کی جائیں جن پر بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں کو یکساں مدد ملے تاکہ کھلاڑی بین الاقوامی معیار کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔








