قومی پیغامِ امن کمیٹی کی سوات خودکش حملے کی مذمت، دہشت گردی کے خلاف متحدہ مؤقف کا اعادہ

"قومی پیغامِ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم پر تمام مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرنے والے جید علماء کرام اور مشائخ عظام نے سوات میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی اور ایک گھناؤنا فعل قرار دیا ہے۔”

اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):قومی پیغامِ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم پر تمام مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرنے والے جید علماء کرام اور مشائخ عظام نے سوات میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی اور ایک گھناؤنا فعل قرار دیا ہے۔

کمیٹی نے اپنے مشترکہ بیان میں اس افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی، اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔یہ مشترکہ بیان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی عبدالرحیم، علامہ عارف واحدی، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، پیر نقیب الرحمن، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، علامہ توفیق عباس، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا مفتی نعمان نعیم، مولانا حافظ مقبول احمد، مولانا زبیر فہیم، مولانا مفتی عبداللطیف، مولانا محمد یوسف کشمیری، مولانا زاہد منصور، مولانا انوار الحق اور مولانا حافظ محمد طارق محمود نے مشترکہ طور پر جاری کیا۔بیان میں علماء کرام نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام امن، اعتدال اور رحمت کا دین ہے۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی اس آیت کا حوالہ دیا: "اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو” (سورۃ النساء: 29)، اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا بھی ذکر کیا: "جس نے کسی ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا” (سورۃ المائدہ: 32)۔انہوں نے مزید کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے خودکشی اور بے گناہ انسانوں کے ناحق قتل کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ متفقہ طور پر منظور شدہ پیغامِ پاکستان کے فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کمیٹی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خودکش حملے، دہشت گردی اور بے گناہ شہریوں کا قتل اسلامی شریعت کے مطابق قطعی طور پر حرام ہیں۔کمیٹی نے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث عناصر فتنۂ خوارج کی فکر کے پیروکار ہیں اور پاکستان و اسلام دشمن قوتوں کے آلۂ کار کے طور پر کام کرتے ہیں، جن کا مقصد ملک میں بدامنی، تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دینا ہے۔علماء کرام نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی شریعت کے اصولوں کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے، امنِ عامہ کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سلامتی کے اداروں کے ساتھ تعاون کرنا قومی اور شرعی ذمہ داری ہے۔قومی پیغامِ امن کمیٹی نے پاکستان کی مسلح افواج، خیبر پختونخوا پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سلامتی کے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ، امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دی جانے والی قربانیوں، بہادری اور غیر متزلزل عزم کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ ان اداروں کے افسران اور اہلکار ملک کے امن، استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مسلسل گراں قدر قربانیاں دے رہے ہیں، اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ کمیٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو مکمل شفا عطا فرمائے، اور پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی، تشدد اور شر و فساد سے محفوظ رکھے۔