راولپنڈی۔13جنوری (اے پی پی):قومی پیغام امن کمیٹی (این پی اے سی) کے وفد نے حافظ طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں منگل کے روز جنرل ہیڈکوارٹرز میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے ملاقات کی اور قومی بیانیے کے فروغ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وفد نے پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار …
قومی پیغام امن کمیٹی کے وفد کی حافظ طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے ملاقات
راولپنڈی۔13جنوری (اے پی پی):قومی پیغام امن کمیٹی (این پی اے سی) کے وفد نے حافظ طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں منگل کے روز جنرل ہیڈکوارٹرز میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے ملاقات کی اور قومی بیانیے کے فروغ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وفد نے پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور ریاست مخالف بیانیوں اور دشمنانہ پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔
کمیٹی نے فتنہ الخوارج کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی بھی شدید مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کسی بھی صورت میں قابل جواز نہیں۔این پی اے سی نے ملک بھر میں مساجد کے منبروں اور دیگر مذہبی پلیٹ فارمز کے ذریعے اسلامی اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور آئینی مساوات کا پیغام عام کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر نفرت انگیز تقاریر، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔کمیٹی نے ریاستی بیانیے کے موثر فروغ کے لیے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی اور رہنمائی کے سیشنز میں اضافہ کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ دہشت گردی اور دشمنانہ پروپیگنڈے کا موثر مقابلہ کرنے کے لیے قومی سلامتی اور بیانیے کے معاملات پر اتحاد اور اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کے تناظر میں داخلی سلامتی کے چیلنجز پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا جس سے تمام متعلقہ فریقین کے مشترکہ موقف کو مزید تقویت ملی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی آگاہی اور حقائق پر مبنی قومی بیانیہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے خلاف فیصلہ کن ہتھیار ہیں۔کشمیر اور غزہ پر اسلام آباد کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مظلوم اقوام کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ملاقات کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے آئندہ دنوں میں اعتماد سازی اور عملی تعاون کے فروغ میں مزید پیش رفت کی امید ظاہر کی۔ شرکا نے بھی ملاقات کو نہایت نتیجہ خیز قرار دیا اور مذہبی قیادت اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے خوش آئند قرار دیا۔









