اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی) کی چیئرپرسن رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی کردار سازی کے لئے انہیں نظریہ پاکستان اور پاکستان کو بنانے کے لئے پیش آنے والی مشکلات اور قربانیوں سے آگا کرنا ہوگا، اسلام ایک مکمل دین حیات ہے، اسلام میں عورت کو جو مقام دیتا حاصل ہے وہ دنیا کے کسی …
قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کی چیئرپرسن رزینہ عالم خان کانظریہ پاکستان کونسل کے زیر اہتمام سمر کیمپ میں شریک طلبہ سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی) کی چیئرپرسن رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی کردار سازی کے لئے انہیں نظریہ پاکستان اور پاکستان کو بنانے کے لئے پیش آنے والی مشکلات اور قربانیوں سے آگا کرنا ہوگا، اسلام ایک مکمل دین حیات ہے، اسلام میں عورت کو جو مقام دیتا حاصل ہے وہ دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں نہیں، عالمگیریت کے اس دور میں معاشرتی اقدار اور ثقافت کا تحفظ ہمارے لئے اہم ہے ۔ وہ پیر کو نظریہ پاکستان کونسل کے زیر اہتمام سمر کیمپ 2017ءکے سلسلہ میں راولپنڈی اسلام آبادکے مختلف سکولوں سے آئے ہوئے طلبہ سے خطاب کررہی تھی۔ سمر کیمپ 3 جولائی سے 15جولائی تک ایوان قائد فاطمہ جناح پارک میں جاری ہے۔ اس موقع پر رزینہ عالم خان نے کہا کہ ہمارا نوجوان ہمارے لئے انتہائی اہم ہے ۔ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی سہولیات کی وجہ سے دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے لیکن اس میں ہمیں اپنی معاشرتی اقدار اور ثقافت کو بچانا ہو گا ، یہ ہمارے لئے اہم ہے ۔ انہوںنے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ مغربی علوم ضرور سیکھیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مغرب کے طور طریقے اپنا لیں۔ مغربی معاشرہ آج جس تباہی کا شکار ہے ہم اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی لوگ ہمارے خاندانی نظام اور ثقافتی و معاشرتی اقدار کی مثالیں دیتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے انتہائی اہم ہے اور ہمیں ہر صورت اس کو عالمگیریت کے اثرات سے بچانا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ دنیا کاکوئی معاشرہ اور مذہب نہیں دیتا ۔ اسلام نے کبھی جبری شادی کی اجازت نہیں دی اور غیرت کے نام پر قتل اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں ، کچھ لوگوں نے بہت سی چیزوں کو اسلام کا نام دے دیا ہے جس کا دور دور تک اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو انتہا پسندانہ سوچ رکھتے ہیں اور مغربی میڈیا ان لوگوں کو نمایاں کرتا ہے۔








