قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی 2021 سے 2025 تک حاصل کی گئی کامیابیوں کے اعتراف میں "ہمت سے اثر تک: پاکستان کی خدمت کے چار سال“ کے عنوان سے خصوصی تقریب کا انعقاد

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے 2021 سے 2025 تک ادارے کے مضبوط ہوتے کردار اور انسانی حقوق کے شعبے میں حاصل کی گئی کامیابیوں کے اعتراف میں منگل کو یہاں "ہمت سے اثر تک: پاکستان کی خدمت کے چار سال“ کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں مختلف شعبوں کے شراکت داروں، کمیونٹیز اور معاونین نے شرکت …

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے 2021 سے 2025 تک ادارے کے مضبوط ہوتے کردار اور انسانی حقوق کے شعبے میں حاصل کی گئی کامیابیوں کے اعتراف میں منگل کو یہاں "ہمت سے اثر تک: پاکستان کی خدمت کے چار سال“ کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں مختلف شعبوں کے شراکت داروں، کمیونٹیز اور معاونین نے شرکت کی جہاں کمیشن کی چار سالہ خدمات اور اس دوران ہونے والی تبدیلیوں وکامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اس موقع کے مہمان خصوصی تھے۔ این سی ایچ آر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر چیئرپرسن این سی ایچ آر رابعہ جویری آغا نے کہاکہ یہ تقریب اس ہمت، تعاون اور عزم کا اعتراف ہے جس نے انسانی حقوق کو ہمارے قومی بیانیے کا مرکزی جزو بنا دیا ہے، ہم نہ صرف ادارے کی کامیابیوں کو سراہتے ہیں بلکہ ان افراد کی جدوجہد کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جن کی آوازیں اس کام کی بنیاد ہیں۔ کمیشن کی پیش رفت میں شراکت داروں کا اہم کردار رہا ہے جن میں سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے، صوبائی محکمے، انصاف کے شعبے کے سٹیک ہولڈرز اور بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان چار برسوں نے ثابت کیا ہے کہ جب کوئی ادارہ اصول اور ہمت پر ڈٹ جائے، تو حقیقی تبدیلی ممکن ہو جاتی ہے۔ ہم نے نظام مضبوط کیے، نگرانی کو بہتر بنایا اور ان لوگوں کی آواز کو ترجیح دی جن کے حقوق اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ چیئرپرسن نے کہا کہ آج کی تقریب دراصل ہر اس کمیونٹی، ہر اس زندہ دل فرد اور ہر اس شراکت دار کی کامیابی ہے جس نے اپنے اعتماد کے ساتھ ہمیں اس سفر میں شریک کیا۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے این سی ایچ آر کی کامیابیوں کو سراہا اور کہا کہ پارلیمان کمیشن کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کمیشن کی رپورٹس، تحقیقات اور سفارشات ہمیں قانون سازی میں موجود خلا کی نشاندہی میں مدد دیتی ہیں،  کسی بھی عمل درآمد کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر آمادہ کرتی ہیں اور یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہیں کہ آیا ہمارے قوانین اپنے اصل مقصد کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔ یہی ریاستی نظام کی بہتری کی مشترکہ کوشش ہے۔ انھوں نے پارلیمان آئینی اداروں کی آزادی کے تحفظ کے لیے  پُر عزم رہنے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو کھل کر بات کریں، اصولی موقف اپنائیں اور بغیر خوف یا مصلحت کے قانون کی پاسداری کریں۔

یہی استحکام کی بنیاد ہے، یہی انصاف کی ضرورت ہے اور یہی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا راستہ ہے۔یورپی یونین کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن، فلپ اولیور گراس نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ یورپی یونین این سی ایچ آر اور پاکستان کی وسیع تر انسانی حقوق کی وابستگی کی حمایت پر فخر محسوس کرتا ہے خصوصاً جی ایس پی پلس کے تناظر میں۔ کمیشن کی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط نگرانی کے ادارے بنیادی حقوق کے تحفظ اور غیر سنی جانے والی آوازوں تک رسائی میں کس قدر موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ ریپریزینٹیٹو سیموئل رزق  کا کہنا تھا کہ این سی ایچ آر آج پاکستان کے معتبر اور قابل اعتماد عوامی اداروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ انسانی حقوق کا کام محض ایک عہدہ یا ذمہ داری نہیں بلکہ ایک پرخلوص مقصد  ہے۔ یو این ڈی پی اس سفر میں کمیشن کے ساتھ کھڑے ہونے پر فخر کرتا ہے اور مستقبل میں بھی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

تقریب میں سول سوسائٹی، سرکاری نمائندوں، بین الاقوامی اداروں، میڈیا، کمیونٹی اراکین، مستفید ہونے والے افراد اور این سی ایچ آر کے عملے نے شرکت کی۔ اس موقع پر نمایاں شخصیات  کی آراء بھی پیش کی گئیں جبکہ “دی رائٹ آئیڈیا” نمائش میں پاکستان بھر میں کمیشن کے  اہم اقدامات کو تصاویر، کہانیوں اور دستاویزات  کے ذریعے پیش کیا گیا۔