قومی کمیشن برائے وقار نسواں کے زیراہتمام بین الاقوامی تنظیم برائے لیبر اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اشتراک سے ’’پاکستان میں صنفی اجرتی فرق ختم کرنا: شواہد سے عمل تک‘‘ کے موضوع پر قومی مکالمہ کا انعقاد

اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے بین الاقوامی تنظیم برائے لیبر اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اشتراک سے ’’پاکستان میں صنفی اجرتی فرق ختم کرنا: شواہد سے عمل تک‘‘ کے موضوع پر قومی مکالمہ منعقد کیا۔قومی مکالمے میں پالیسی سازوں، سرکاری اداروں، نجی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں، محنت کشوں کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور …

اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے بین الاقوامی تنظیم برائے لیبر اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اشتراک سے ’’پاکستان میں صنفی اجرتی فرق ختم کرنا: شواہد سے عمل تک‘‘ کے موضوع پر قومی مکالمہ منعقد کیا۔قومی مکالمے میں پالیسی سازوں، سرکاری اداروں، نجی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں، محنت کشوں کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور مساوی اجرت کے لیے موثر حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو ام لیلی اظہر نے کہا کہ مساوی اجرت صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ انصاف، بہتر حکمرانی اور معاشی تبدیلی کا تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت ملتی ہے جس کی بڑی وجوہات ساختی عدم مساوات اور غیر رسمی روزگار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ جائزوں کے مطابق خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت میں اضافہ ہوا ہے تاہم کم اجرت، محدود مواقع اور فیصلہ سازی میں رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے قانون سازی، ادارہ جاتی احتساب اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر جیئر تھامس ٹونسٹل اور سموئیل رزق نے کہا کہ صنفی اجرتی برابری انسانی حقوق، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے جبکہ شفافیت، معیاری قوانین اور بہتر اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔

ندیم اسلم چوہدری نے حکومتی اصلاحات اور محنت کشوں کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔رابعہ رزاق نے بتایا کہ پاکستان میں صنفی اجرتی فرق خطے کے کئی ممالک سے زیادہ ہے اور موثر پالیسی سازی کے لیے مستند اعداد و شمار ضروری ہیں۔ عنبر اصغر، عالیہ ہاشمی اور افتخار احمد نے کاروباری اداروں کی ذمہ داری، غیر رسمی شعبے کے کارکنوں کے تحفظ، نگہداشت کے کام کی اہمیت اور صنفی حساس معاشی منصوبہ بندی پر زور دیا۔

سمیعہ لیاقت علی خان اور وجیہہ بشیر نے خواتین کی غیر معاوضہ خدمات کے اعتراف، سماجی تحفظ اور صنفی حساس بجٹ سازی کو مساوی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔مکالمے کے اختتام پر تمام شراکت داروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کے باعزت روزگار، اجرتی شفافیت، روزگار کی باقاعدگی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ہر شعبے میں مساوی اجرت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔