اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):انڈیپنڈنٹ مارکیٹ اینڈ سسٹم آپریٹر (آئی ایس ایم او) نے ونڈ پاور کی پیداوار میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس پروضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی گرڈ میں بجلی کی طلب دن کے دوران تقریباً 7 ہزار سے 16 ہزار میگاواٹ کے درمیان بدلتی رہتی ہے جس کے باعث نظام کو متوازن رکھنے کے لیے بجلی کی پیداوار میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے۔اتوار …
قومی گرڈ میں بجلی کی طلب دن کے دوران بدلتی رہتی ہے ،نظام کو متوازن رکھنے کیلئے بجلی کی پیداوار میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے، آئی ایس ایم او

مزید خبریں
اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):انڈیپنڈنٹ مارکیٹ اینڈ سسٹم آپریٹر (آئی ایس ایم او) نے ونڈ پاور کی پیداوار میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس پروضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی گرڈ میں بجلی کی طلب دن کے دوران تقریباً 7 ہزار سے 16 ہزار میگاواٹ کے درمیان بدلتی رہتی ہے جس کے باعث نظام کو متوازن رکھنے کے لیے بجلی کی پیداوار میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے۔اتوار کو جاری بیان میں آئی ایس ایم او نے کہا کہ ونڈ پاور کی پیداوار کم کرنا کوئی صوابدیدی اقدام نہیں بلکہ ادارے کی قانونی ذمہ داری ہے کہ قومی بجلی کے نظام میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان حقیقی وقت میں توازن برقرار رکھا جائے،ادارے کے مطابق وہ ہائیڈرو، تھرمل، نیوکلیئر، ونڈ اور سولر سمیت تمام ذرائع سے بجلی کی پیداوار کا انتظام کرتا ہےاور پاور پلانٹس کا آپریشن نیشنل گرڈ کوڈ اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کئے گئے پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی ایز) اور انرجی پرچیز ایگریمنٹس (EPAs) کے مطابق ہوتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حالیہ برسوں میں روف ٹاپ سولر سسٹمز کے بڑھتے استعمال کے باعث بجلی کی طلب کا انداز بدل گیا ہے۔ دن کے اوقات میں سولر بجلی پیدا ہونے سے قومی گرڈ پر طلب کم ہو جاتی ہے جبکہ شام کے وقت جب سولر پیداوار ختم ہوتی ہے تو طلب تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔آئی ایس ایم او کے مطابق اس صورتحال میں دن کے وقت بجلی کی طلب 7 سے 8 ہزار میگاواٹ تک گر جاتی ہے جبکہ شام کو یہ 16 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ایسے حالات میں نظام کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام پاور پلانٹس کو کم طلب کے دوران اپنی پیداوار تکنیکی کم ترین سطح تک لانا پڑتی ہے،ادارے نے واضح کیا کہ ایسے مواقع پر ونڈ پاور پلانٹس کے ساتھ بھی دیگر بجلی گھروں جیسا ہی سلوک کیا جاتا ہے اور یہ اقدامات گرڈ کوڈ اور معاہدوں کے تحت جائز ہیں۔
بیان کے مطابق جنوری 2026 کے اعداد و شمار ایک ہی دن میں طلب میں بڑے اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں دوپہر ایک بجے کم از کم لوڈ 8,650 میگاواٹ جبکہ شام 6 بجے کے بعدزیادہ سے زیادہ لوڈ 15,669 میگاواٹ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ایک ہی دن میں 7,019 میگاواٹ کا فرق پیدا ہوا۔آئی ایس ایم او نے کہا کہ ونڈ پاور منصوبوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے نان پراجیکٹ مسڈ والیوم (NPMV) کا نظام موجود ہے جس کے تحت گرڈ کی حدود کے باعث بجلی نہ لی جا سکے تو پیدا کرنے والوں کو معاوضہ دیا جاتا ہے۔ادارے کے مطابق ونڈ پاور کی ترسیل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں جن میں 500 کے وی کے کے آئی گرڈ اسٹیشن، کراچی الیکٹرک کے لیے قومی گرڈ سے بجلی درآمد کی صلاحیت میں اضافہ، بہتر ونڈ فارکاسٹنگ اور HVDC-AC ٹرانسمیشن کوریڈور کا مؤثر استعمال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 500 کے وی لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن بھی نیٹ ورک کی معاونت کے لیے فعال کیا جا چکا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ونڈ پاور کے استعمال میں بہتری آئی ہے جو 2023 میں 56 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 62 فیصد اور 2025 میں 75 فیصد تک پہنچ گئی۔آئی ایس ایم او کے مطابق دن کے وقت طلب میں کمی کے مسئلےجسے عموماً “ڈک کرو” کہا جاتا ہے سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات زیر غور ہیں جن میں صنعتی صارفین کے لیے خصوصی پیکجز اور قومی گرڈ میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کی تنصیب شامل ہے۔آئی ایس ایم او ایک سرکاری ادارہ ہے جو حکومت پاکستان نے قائم کیا ہے۔ یہ ادارہ بجلی کے نظام کی آپریشن، طویل المدتی پیداوار و ترسیل کی منصوبہ بندی اور مسابقتی بجلی مارکیٹ کے انتظام سمیت تین بنیادی ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔








