اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی زیرِ صدارت کمیشن کا 47واں اجلاس سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا، جس میں آئینی تقاضوں اور موجودہ معاشرتی ضروریات کے مطابق قانونی اصلاحات کو آگے بڑھانے سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں خصوصی دعوت پر جسٹس امین الدین …
لاء اینڈ جسٹس کمیشن کا مستحق افراد کو مفت قانونی مشورہ فراہم کرنے کے لیے فریم ورک تیار کرنے کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی زیرِ صدارت کمیشن کا 47واں اجلاس سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا، جس میں آئینی تقاضوں اور موجودہ معاشرتی ضروریات کے مطابق قانونی اصلاحات کو آگے بڑھانے سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں خصوصی دعوت پر جسٹس امین الدین خان، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان شریک ہوئے۔
اس کے علاوہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان، سیکرٹری وزارتِ قانون و انصاف، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی قائم مقام چیئرپرسن، محمد منیر پراچہ اور کامران مرتضیٰ (سینئر وکلاء سپریم کورٹ) نے اجلاس میں شرکت کی۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، جسٹس (ر) ایم شعیب عثمانی اور بیرسٹر ساجد ظہیر (سینئر وکیل سپریم کورٹ) نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔
کمیشن نے اپنے قانونی مینڈیٹ کے تحت نظامِ انصاف کو بہتر بنانے کے لیے جاری اہم اصلاحاتی اقدامات کا جامع جائزہ لیا، جن میں عائلی قوانین، ضابطہ فوجداری میں اصلاحات، مقدمات کے الیکٹرانک اندراج (ای فائلنگ) کے طریقہ کار اور دیگر شعبہ جات میں قانون سازی کی جدیدکاری شامل ہے۔اہم فیصلے میں کمیشن نے لاء اینڈ جسٹس کمیشن سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ وہ مفت قانونی امداد اور مشاورتی نظام کے قیام کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرے۔
اس ضمن میں ہائی کورٹس اور بار کونسلز کے اشتراک سے مربوط نظام وضع کیا جائے گا، جبکہ ’’ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ‘‘ کے متعلقہ حصے سے مالی وسائل کی فراہمی اور پرو بونو خدمات کو ادارہ جاتی شکل دینے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی مستحق درخواست گزار وکیل کے بغیر نہ رہے اور ہر شہری کو، اس کی مالی حیثیت سے قطع نظر، قانونی مشورہ اور معاونت تک مؤثر رسائی حاصل ہو۔کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایک ایسا منصفانہ، مؤثر اور قابلِ رسائی نظامِ انصاف قائم کرنے کے لیے جامع اور جوابدہ قانونی اصلاحات جاری رکھے گا، جو معاشرے کے تمام طبقات کے لیے مساوی انصاف کی ضمانت دے۔








