لاہورہائیکورٹ نے ایف سی کالج یونیورسٹی کے ہاسٹل پر سرکاری حکام کے قبضے کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا
لاہورہائیکورٹ نے ایف سی کالج یونیورسٹی کے ہاسٹل پر سرکاری حکام کے قبضے کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

مزید خبریں
لاہور۔17جون (اے پی پی):لاہورہائیکورٹ نے ایف سی کالج یونیورسٹی کے ہاسٹل پر سرکاری حکام کے قبضے کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے رجسٹرار ڈاکٹرنیئرفردوس کی درخواست پر سماعت کی ۔ درخواست گزار کے وکیل نے درخواست میں موقف اختیار کیاکہ اس کالج کیلئے حکومت پنجاب نے 1915 میں جگہ لیز پر دی ۔اس کالج کی لیز میں وقتا فوقتا توسیع ہوتی رہی اس کالج کے 9 ہاسٹل ہیں یہ کالج 1972 سے 2007 تک قومی تحویل میں رہا۔ 11کنال 11 مرلہ پر مشتمل ایک ہاسٹل نیلا گبند میں واقع ہے جس میں 99 سٹوڈنٹس رہائش پزیرہیں ۔وکیل نے نکتہ اٹھایاکہ اب اس ہاسٹل کی اراضی کو سرکاری حکام نے غیر قانونی اپنی تحویل میں لینے کا شوکاز نوٹس دے دیا ہے یہ شوکاز نوٹس ممبر کالونیز بورڈ آف ریونیو نے جاری کیا ہے لینڈ ریونیو ایکٹ 1912کے تحت شوکاز نوٹس صرف کلکٹر/تحصیلدار ہی دے سکتا ہے قانون کے تحت اراضی واپس نہیں لی جا سکتی۔ حکومت کا یہ اقدام بدنیتی پر مبنی اور غیر قانونی ہے ۔ لہذا عدالت ہاسٹل کی اراضی کو واپس لینے کے حکومت پنجاب کے شوکاز نوٹس دینے کے اقدام کو کالعدم قرار دے۔ عدالت نے قرار دیاکہ درخواست کس طرح قابل سماعت ہے ۔ اپ نے آج تک لیز کی رقم ادا نہیں کی۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔








