لا اینڈ جسٹس کمیشن کی انٹرنیشنل کمرشل کورٹ کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی سفارش، بینکنگ محتسب کا دائرۂ اختیار بڑھانے کی سفارش کی منظوری

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آ فریدی کی زیرِ صدارت لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے 49ویں اجلاس میں ملک میں انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کے لیے آئین میں نئے آرٹیکل 212-اے شامل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے آئینی ترمیم کی تجویز وفاقی حکومت کو قانون سازی کے لیے بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسلام آباد۔20جولائی (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آ فریدی کی زیرِ صدارت لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے 49ویں اجلاس میں ملک میں انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کے لیے آئین میں نئے آرٹیکل 212-اے شامل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے آئینی ترمیم کی تجویز وفاقی حکومت کو قانون سازی کے لیے بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کی دفعہ 3A(1A) میں مجوزہ ترمیم کی بھی منظوری دی گئی تاکہ بینکنگ محتسب کا دائرۂ اختیار مائیکرو فنانس بینکوں اور مالیاتی اداروں کے صارفین تک توسیع دی جا سکے۔چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹارنی جنرل پاکستان، چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، سیکرٹری وزارتِ قانون و انصاف، لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ارکان جبکہ وفاقی وزیر قانون و انصاف نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کے لیے آئین میں نئے آرٹیکل 212-اے کا اضافہ تجویز کیا جائے۔

مجوزہ عدالت ایک آزاد وفاقی اعلیٰ عدالت ہوگی جو بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے فوری، مؤثر اور شفاف حل کے لیے قائم کی جائے گی۔ عدالت ثالثی ایوارڈز کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے، تجارتی قوانین میں یکسانیت اور پیش گوئی کی صلاحیت کو فروغ دینے کے ساتھ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور پاکستان کو بین الاقوامی تجارت و سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔کمیشن نے کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کا مقصد پاکستان کے تجارتی نظامِ انصاف کو عالمی بہترین روایات سے ہم آہنگ کرنا، پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار قانونی ماحول فراہم کرنا ہے۔

اس سلسلے میں مجوزہ آئینی ترمیم کی سفارش وفاقی حکومت کو قانون سازی کے لیے ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کی دفعہ 3A(1A) میں مجوزہ ترمیم کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت بینکنگ محتسب کا دائرۂ اختیار مائیکرو فنانس بینکوں اور مالیاتی اداروں کے صارفین تک بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق مجوزہ اصلاحات سے لاکھوں مائیکرو فنانس صارفین کو مؤثر، کم خرچ اور آسان شکایات کے ازالے کا نظام میسر آئے گا، جبکہ صارفین کے تحفظ، مالیاتی شمولیت اور مالیاتی شعبے پر عوامی اعتماد کو بھی مزید فروغ ملے گا۔

لا اینڈ جسٹس کمیشن نے بینکنگ محتسب سے متعلق مجوزہ ترمیم بھی قانون سازی کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوانے کی منظوری دیتے ہوئے جدید، مؤثر اور جوابدہ نظامِ انصاف کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی، تجارتی اعتماد اور صارفین کے تحفظ کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

مزید خبریں