لندن بیانیہ دراصل بھارت اور اسرائیل کا بیانیہ ہے ، حافظ طاہر محمود اشرفی

فیصل آباد۔27دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطی اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے مولانا اجمل قادری کے انکشاف کے بعد کہ ان کو نواز شریف نے اسرائیل بھیجا تھا واضح ہو گیا ہے کہ لندن بیانیہ دراصل بھارت اور اسرائیل کا بیانیہ ہے جس کا مقصد پاک فوج، ملکی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنا …

فیصل آباد۔27دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطی اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے مولانا اجمل قادری کے انکشاف کے بعد کہ ان کو نواز شریف نے اسرائیل بھیجا تھا واضح ہو گیا ہے کہ لندن بیانیہ دراصل بھارت اور اسرائیل کا بیانیہ ہے جس کا مقصد پاک فوج، ملکی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنا کرانتشار پھیلانا اور ملک کو کمزور کرنا ہے، پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن اس بیانئے پر نہ چلیں، اب غدار سامنے آگئے ہیں وہ اس کا نوٹس لیں، کچھ مسخرے ٹی اوی پر بیٹھ کر علماء کے نام پر ملک کے خلاف بولتے ہیں سلامتی کے اداروں پر حملے کرنیوالوں کا پیمرا نوٹس لے۔جمہوریت کی بات کرنیوالوں میں خود جمہوریت پسندی نہیں ہے۔اگر کوئی راولپنڈی کی طرف جانے کی بات کرے گا توعوام رکاوٹ بنیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو سرکٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔انہوں نے کہاکہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ لندن بیانیہ دراصل بھارت اور اسرائیل کا بیانیہ ہے جس کا مقصد پاک فوج، ملک کے سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنا کر پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں مذہبی جماعتیں مولانا اجمل قادری کے انکشاف کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کے نواز شریف کے اس عمل کے بارے میں اپنا موقف قوم کے سامنے لائیں مولانا بتائیں اسرائیل وفد بھجوانے والا غدار ہے کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا کوئی مستقبل نہیں ہے کچھ مسخرے ٹی وی ٹک شوز میں بیٹھ کر علماء کے نام پر ملک کے خلاف بولتے ہیں جس پارٹی نے اجمل قادری کا وفد اسرائیل بھیجا وہی آج پاک فوج پر حملہ آور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بات کرنیوالوں میں خود جمہوریت نہیں مولاناپارٹی کے درینہ ساتھیوں کی تنقید برداشت نہ کرسکے انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ آپ نے اپنی ضرورت کے تحت مولانا شیرانی کو اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ مختلف جماعتوں کے حلیف رہے تمام اقدامات کے ذمہ دار بھی آپ ہیں۔آپ کے ممبران نے جو تنخواہیں اور مراعات لیں کیا وہ حلال ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں مدرسوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ ہوا علما کرام پر پرچے کٹوائے گئے جبکہ موجودہ حکومت نے مدرسوں کو تحفظ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت پر وزیر اعظم کی سوچ کو 57 ممالک نے تسلیم کیا اور دنیا سے ناموس رسالت کے حوالے سے مطالبات رکھے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی صدر کی جانب سے ایک خط آیا جس میں موجودہ حکومت کے موقف پر فلسطینی حکومت اور عوام وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کسی بھی سطح پر نہ اسرائیل سے تعلقات تھے نہ ہیں، نہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی راولپنڈی کی طرف جانے کی بات کرے گا توعوام رکاوٹ بنیں گے۔

مزید خبریں