وزیراعظم کا دہشت گردی کے متاثرین سے اظہار یکجہتی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے بھرپور عزم کا اعادہ، دہشت گردی میں جاں بحق افراد، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں،شہباز شریف
وزیراعظم کا دہشت گردی کے متاثرین سے اظہار یکجہتی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے بھرپور عزم کا اعادہ، دہشت گردی میں جاں بحق افراد، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں،شہباز شریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نےدہشت گردی کے متاثرین سے اظہار یکجہتی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے بھرپور عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی بنی نوع انسان کو درپیش سب سے سنگین مسئلہ ہے،دہشت گردی کے واقعات میں تمام جاں بحق افراد، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں،دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانی صرف قیمتی جانوں تک محدود نہیں بلکہ ہم نے اس کی خاطر خواہ معاشی اور سماجی قیمت بھی ادا کی ہے،دہشت گردی نے ہمارے شہریوں کی معاشی آسودگی اور ملکی ترقی و خوشحالی کے سفر کو مسائل سے دوچار کیا ہے،عالمی برادری کی طرف سے دہشت گردی کی بلا مشروط مذمت اور اس کے مکمل خاتمے کے لیے موثر باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور اظہار عقیدت کے عالمی دن پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آج دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر دہشت گردی کے متاثرین کی یاد میں مختص دن پر تمام متاثرین سے بھر پور انداز میں پر خلوص اظہار یکجہتی اور خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی بنی نوع انسان کو درپیش سب سے سنگین مسئلہ ہے، انسانیت سے عاری عوامل ہی معصوم انسانوں کی جانوں سے اپنے مذموم مقاصد کے لیے کھیل سکتے ہیں، دہشت گردی کے متاثرین میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور عمر بھر کے لئے زخمی ہو جانے والے افراد بھی ہمارے جذبہ ہمدردی کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے متاثرین میں سے ہے، نہ صرف ہماری نڈر افواج نے اس ناسور کے خلاف جنگ میں اپنی بیش قیمت جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے بلکہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہادر جوانوں اور افسران اور ہمارے معصوم شہریوں نے بھی جانیں قربان کی ہیں، ہم دہشت گردی کے واقعات میں تمام جاں بحق افراد، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانی صرف قیمتی جانوں تک محدود نہیں بلکہ ہم نے اس کی خاطر خواہ معاشی اور سماجی قیمت بھی ادا کی ہے، دہشت گردی نے ہمارے شہریوں کی معاشی آسودگی اور ملکی ترقی و خوشحالی کے سفر کو مسائل سے دوچار کیا ہے، اپنے بھرپور قومی عزم کے ساتھ پاکستان اس برائی کے مکمل خاتمے تک اس جدو جہد کو جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ اقوام عالم میں کوئی قوم ، تہذیب، مذہب و عقیدہ، دہشت گردی کی ترغیب نہیں دیتا، دہشت گردی کی کارروائیاں بیمار ذہن کی عکاس ہیں اور غیر انسانی نظریہ کی مظہر ہیں، عالمی برادری کی دہشت گردی کی بلا مشروط مذمت اور اس کے مکمل خاتمے کے لیے موثر باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین کی جسمانی،نفسیاتی اور سماجی بحالی بھی ہماری مشترکہ عالمی ذمہ داریوں میں شامل ہے، قومی سطح پر حکومت پاکستان نے ہمیشہ اپنے محدود وسائل کے باوجود دہشت گردی کے متاثرین اور اس سے نبرد آزما قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ پاکستان میں سرکاری سطح پر شہداء، ان کے لواحقین اور متاثرین کے لئے ایک مربوط معاونتی نظام موجود ہے، تمام متاثرین کو بآسانی علاج و بحالی اور شہری سہولیات کی فوری رسائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج کے دن میں عالمی، قومی، اجتماعی اور انفرادی سطح پر تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مثبت انسانی اقدار اور بین الاقومی قوانین کی بالادستی کو عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے دہشت گردی، تخریب کاری اور منفی رحجانات کے خلاف اپنی آواز اٹھائیں۔







