آئیے دہشت گردی کو شکست دینے اور ایک پرامن، متحمل، کثیرالجہتی، ہمدرد اور مضبوط پاکستان کی تعمیر کیلئے اجتماعی عزم کی تجدید کریں، صدر مملکت آصف علی زرداری کا دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور خراج عقیدت کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

آئیے دہشت گردی کو شکست دینے اور ایک پرامن، متحمل، کثیرالجہتی، ہمدرد اور مضبوط پاکستان کی تعمیر کیلئے اجتماعی عزم کی تجدید کریں، صدر مملکت آصف علی زرداری کا دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور خراج عقیدت کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بھاری قیمت ادا کی ہے، دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ہمارے لاکھوں شہری جن میں بچے، سیاسی رہنما، مسلح افواج کے اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، امدادی کارکنان اور سرکاری ملازمین شامل ہیں، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے لے کر آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم بچوں اور اساتذہ سمیت دہشت گردی کا شکار ہونے والے بے شمار پاکستانیوں تک، دہشت گردی نے ایسے زخم دیئے ہیں جو ہماری قومی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔

جمعرات کو ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور خراج عقیدت کے عالمی دن پر پیغام اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن کے موقع پر ہم دہشت گردی کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوانے والے تمام افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور بچ جانے والے متاثرین، ان کے خاندانوں اور ان برادریوں کے ساتھ گہری یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جن کی زندگیاں تشدد کے باعث ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج بھی ہمارے شہری اور سکیورٹی اہلکار بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قربانیاں دے رہے ہیں، ہم ان کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں اور دہشت گردی کے ہاتھوں اپنے پیاروں کو کھونے والے ہر خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ کوئی مذہب، عقیدہ، مسلک، نظریہ، شکایت، مقصد یا سیاسی مفاد کبھی بھی بے گناہ انسانوں کے قتل کا جواز نہیں بن سکتا، دہشت گردی کی تمام اقسام اور مظاہر کی بلاامتیاز مذمت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور کسی دہشت گرد تنظیم کو پناہ، مالی معاونت، اسلحہ، لاجسٹک مدد یا کسی بھی قسم کی بیرونی معاونت فراہم نہ ہو، اسی کے ساتھ اس دن کی یاد کو ذمہ داری اور بحالی کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ متاثرین اور دہشت گردی سے بچ جانے والے افراد اکثر برسوں تک جسمانی چوٹوں، نفسیاتی صدمے، روزگار کے نقصان، تعلیم میں تعطل اور سماجی تنہائی کا سامنا کرتے ہیں، ان کی تکالیف کا ازالہ محض فوری امداد یا ایک مرتبہ کی مالی معاونت سے نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہمدردی، طبی اور نفسیاتی معاونت، تعلیم، بحالی، قانونی معاونت اور روزگار کے ایسے مواقع کے مستحق ہیں جو انہیں وقار کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان متاثرین کے لئے ایک مربوط معاونتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، رواں سال متاثرین کی قیادت میں ڈیجیٹل اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، لہٰذا ہمیں ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال کرتے ہوئے معلومات، امداد اور بحالی کی خدمات کو متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے قابل رسائی بنانا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین کی مدد خیرات نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار اور قومی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ حکومتی اداروں، صحت اور تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے، ذرائع ابلاغ اور ترقیاتی شراکت داروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو مستقل اور مسلسل معاونت فراہم کی جاسکے، متاثرین کی تکلیف ہماری قومی اجتماعی یادداشت سے محو نہیں ہونی چاہیے جب وہ خبروں سے اوجھل ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد میں اس انتہا پسندی، عدم برداشت اور نفرت کا مقابلہ بھی شامل ہونا چاہیے جو تشدد کو جڑ پکڑنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہمیں ان سماجی، نسلی اور مذہبی امتیازات کا بھی تدارک کرنا ہوگا جنہیں انتہا پسند نفرت اور تقسیم پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ جب عدم برداشت کو بڑھنے دیا جاتا ہے تو یہ شدت پسندی، پرتشدد انتہا پسندی اور بالآخر دہشت گردی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو صرف سکیورٹی اقدامات کے ذریعے شکست نہیں دی جاسکتی، ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہمارے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے محفوظ رکھا جائے اور جہاں نسلی، مذہبی، مسلکی یا سیاسی اختلافات کو کبھی بھی تشدد کا جواز نہ بننے دیا جائے، کسی بچے کو دہشت گردی سے پیدا کردہ خوف، صدمہ یا نفرت وراثت میں نہیں ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے پاکستان کے مختلف صوبوں، برادریوں، مذاہب اور اداروں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو نشانہ بنایا ہے لیکن وہ ہمارے قومی عزم کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں، ہمارے عوام کی قربانیاں کسی ایک صوبے، نسل، مسلک یا ادارے سے تعلق نہیں رکھتیں۔ یہ پاکستان کے لیے مجموعی طور پر دی جانے والی قربانیاں ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس سنجیدہ موقع پر آئیے، اپنے ان پیاروں کو یاد کریں جنہیں ہم نے کھو دیا، ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو آج بھی دہشت گردی کے اثرات برداشت کر رہے ہیں اور دہشت گردی کو شکست دینے اور ایک پرامن، متحمل، کثیرالجہتی، ہمدرد اور مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے اجتماعی عزم کی تجدید کریں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے اہل خانہ کو صبر و حوصلہ دے اور پاکستان کو دائمی امن، استحکام، خوشحالی اور قومی یکجہتی عطا کرے۔

 

مزید خبریں