اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی چیئرپرسن نےپی ٹی اے حکام کو ہدایت کی ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے دوران غیر معطل ٹیلی کام سروسز کے لئے سولر توانائی کے حل اپنائے جائیں اور غیر فعال ٹیلی کام ٹاورز کی فوری مرمت کی جائے، اجلاس کو وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے موبائل ڈیٹا اور کال پیکجز …
لوڈ شیڈنگ کے دوران غیر معطل ٹیلی کام سروسز کے لئے سولر توانائی کے حل اپنائے جائیں ،غیر فعال ٹیلی کام ٹاورز کی فوری مرمت کی جائے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی چیئرپرسن نےپی ٹی اے حکام کو ہدایت کی ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے دوران غیر معطل ٹیلی کام سروسز کے لئے سولر توانائی کے حل اپنائے جائیں اور غیر فعال ٹیلی کام ٹاورز کی فوری مرمت کی جائے، اجلاس کو وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے موبائل ڈیٹا اور کال پیکجز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے اقدامات پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔
سینیٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس منگل کو سینیٹر پروفیسر پلوشہ محمدزئی خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے سینیٹر عطا ء الرحمن کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی مفاد کے سوال پر بریفنگ دی جس میں ضلع لکی مروت، خیبر پختونخوا میں موبائل سروسز کے مبینہ تعطل کی شکایت شامل تھی۔ وزارت نے بتایا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق بہرام خیل، تاجوری روڈ، لکی مروت میں کوئی موبائل یا ٹیلی کمیونیکیشن سروس معطل نہیں ہے تاہم کسی مخصوص مسئلے کی نشاندہی کے لئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ رابطہ کی تفصیلات شیئر کی جا سکتی ہیں۔
چیئرپرسن نے حکام کو ہدایت کی کہ لوڈ شیڈنگ کے دوران غیر معطل ٹیلی کام سروسز کے لئے سولر توانائی کے حل اپنائے جائیں اور غیر فعال ٹیلی کام ٹاورز کی فوری مرمت کی جائے۔ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے موبائل ڈیٹا اور کال پیکجز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے اقدامات پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں ڈیٹا صرف موبائل براڈ بینڈ خدمات سب سے زیادہ سستی ہیں اور قومی ڈیجیٹل ترقی کے لئے قیمت کی افورڈیبلٹی ایک اہم عنصر ہے۔
چیئرپرسن پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے وی پی این خدمات کے لائسنسنگ اور لائسنس حاصل کرنے کے طریقہ کار پر تفصیل سے بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وی پی این سروسز کے لئے درخواست دہندگان کو قانونی طور پر رجسٹرڈ ادارے ہونا ضروری ہیں، اب تک چھ ڈیٹا کلاس لائسنس جاری کئے گئے ہیں جبکہ ایک ادارے کو موجودہ لائسنس کے تحت اجازت دی گئی ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری داخلہ اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے آئی سی ٹی ہاؤس ہولڈ سروے ایپ کے ذریعے جمع کی جانے والی معلومات کے ڈیٹا پروٹیکشن اقدامات پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ سروے وزیراعظم کے احکامات کے تحت عوامی تحفظ اور درست رہائشی ریکارڈ کے لئے کیا جا رہا ہے اور اب تک 28,594 گھر وں کا سروے مکمل ہو چکا ہے ۔ کمیٹی نے نجی ڈیٹا لیک ہونے اور فروخت کی رپورٹس پر شدید تشویش ظاہر کی اور نادرا حکام کی سخت کارروائی پر زور دیا گیا۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ 1.5 کروڑ روپے کی مبینہ ادائیگیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ لاہور اور اسلام آباد میں دو ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی اے کے چیئرپرسن نے پی ٹی سی ایل کے آخری آڈٹ اور یو فون کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاسوں اور ملاقاتوں کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کیں۔
یونیورسل سروس فنڈ کے چیف ایگزیکٹو نے موبائل نیٹ ورک کے مسائل اور مختلف شہروں اور علاقوں میں رابطے کے معاملات پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی۔ چیئرپرسن نے اگلے اجلاس میں مزید غور و خوض کے لئے متعلقہ حکام کو مدعو کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان، سینیٹر سعدیہ عباسی اور سینیٹر عطا ءالرحمن نے شرکت کی۔








