اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):عالمی برادری کے ساتھ پاکستان نے بھی گزشتہ روزبین الاقوامی یومِ تعلیم 2026 منایا اوروزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تعلیم، مؤثر ابلاغ، میڈیا کے کردار اور نوجوانوں کی شمولیت کو قومی پالیسی کا مرکزی ستون بنایا جائے گا۔ اتوار کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری …
ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تعلیم، مؤثر ابلاغ، میڈیا کے کردار اور نوجوانوں کی شمولیت کو قومی پالیسی کا مرکزی ستون بنایا جائے گا،بین الاقوامی یومِ تعلیم 2026 کا عزم
اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):عالمی برادری کے ساتھ پاکستان نے بھی گزشتہ روزبین الاقوامی یومِ تعلیم 2026 منایا اوروزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تعلیم، مؤثر ابلاغ، میڈیا کے کردار اور نوجوانوں کی شمولیت کو قومی پالیسی کا مرکزی ستون بنایا جائے گا۔
اتوار کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تعلیم پاکستان کے لیے ماحولیاتی مضبوطی، پائیدار ترقی اور سماجی تبدیلی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 2018 میں بین الاقوامی یومِ تعلیم کو تعلیم کے بنیادی انسانی حق، عوامی فلاح اور عالمی مشترکہ ذمہ داری کے طور پر تسلیم کیا تھا۔
ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک، خصوصاً پاکستان کے لیے اس دن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہاں سیلاب، ہیٹ ویوز، خشک سالی اور گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے جیسے واقعات کی ترقی، معیشت اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہے ہیں۔اس سال یومِ تعلیم کا موضوع ’’تعلیم کی تشکیل میں نوجوانوں کی طاقت‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو تعلیمی نظام اور پالیسی سازی میں فعال شراکت دار کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان اور کلائمیٹ چینج ایجوکیشن، کمیونیکیشن و ایڈووکیسی آؤٹ ریچ اسپیشلسٹ محمد سلیم شیخ نے کہا کہ دنیا کی نصف سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اس لیے تعلیمی اور ماحولیاتی پالیسیاں نوجوانوں کے بغیر مؤثر نہیں ہو سکتیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم پاکستان کے ماحولیاتی ردِعمل کی ریڑھ کی ہڈی ہے،سکولوں سے لے کر کمیونٹیز تک ماحولیاتی آگاہی شہریوں کو خطرات سمجھنے، ماحول دوست رویے اپنانے اور تخفیف و موافقت کے اقدامات میں کردار ادا کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔
محمد سلیم شیخ نے میڈیا کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا عوامی رائے سازی،ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے اور حل پر مبنی اقدامات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر میڈیا ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے کو صرف آفات کے وقت نہیں بلکہ مسلسل رپورٹ کرے تو عوام میں تیاری، احتساب اور ذمہ داری کا شعور پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی قومی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی میں عوامی آگاہی، تعلیم اور آؤٹ ریچ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت تعلیمی نصاب میں ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کے تحفظ، آبی و توانائی بچت، جنگلات کے تحفظ اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات شامل کیے جا رہے ہیں۔
یومِ تعلیم 2026 اس امر کی بھی یاد دہانی ہے کہ معیاری تعلیم (ایس ڈی جیز۔ 4)، صنفی مساوات (ایس ڈی جیز۔ 5) اور مضبوط ادارے (ایس ڈی جی۔ 16) پاکستان کی ماحولیاتی مضبوطی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق نوجوانوں،تعلیم اور میڈیا کی مشترکہ طاقت سے ہی پاکستان ماحولیاتی خطرات کو کم کر کے ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔








